Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
220 - 558
وَ قَالُوۡا ہٰذِہٖۤ اَنْعٰمٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ ٭ۖ لَّا یَطْعَمُہَاۤ اِلَّا مَنۡ نَّشَآءُ بِزَعْمِہِمْ وَ اَنْعٰمٌ حُرِّمَتْ ظُہُوۡرُہَا وَ اَنْعٰمٌ لَّا یَذْکُرُوۡنَ اسْمَ اللہِ عَلَیۡہَا افْتِرَآءً عَلَیۡہِ ؕ سَیَجْزِیۡہِمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفْتَرُوۡنَ ﴿۱۳۸﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور بولے یہ مویشی اور کھیتی روکی ہوئی ہے اسے وہی کھائے جسے ہم چاہیں اپنے جھوٹے خیال سے اور کچھ مویشی ہیں جن پر چڑھنا حرام ٹھہرایا اور کچھ مویشی کے ذبح پر اللہ کا نام نہیں لیتے یہ سب اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے عنقریب وہ انہیں بدلہ دے گا ان کے افتراؤں کا۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور مشرک اپنے خیال سے کہتے ہیں : یہ مویشی اور کھیتی ممنوع ہے، اسے وہی کھائے جسے ہم چاہیں اور کچھ مویشی ایسے ہیں جن کی پیٹھوں (پر سواری) کوحرام کر دیا گیا اور کچھ مویشی وہ ہیں جن کے ذبح پر اللہ کا نام نہیں لیتے، (یہ سب)اللہ پر جھوٹ باندھتے ہوئے (کہتے ہیں ) عنقریب وہ انہیں ان کے بہتانوں کابدلے دے گا۔ 
{ وَ قَالُوۡا:اور مشرک کہتے ہیں۔} مشرکین اپنے بعض مویشیوں اور کھیتیوں کو اپنے باطل معبودوں کے ساتھ نامزد کرکے اپنے زعم میں کہنے لگے کہ ان مویشیوں اور کھیتیوں سے فائدہ اٹھانا ممنوع ہے اسے وہی کھائے گا جسے ہم چاہیں گے چنانچہ وہ بتوں کے نام پر چھوڑی ہوئی پیداوار اور اپنے باطل معبودوں کے ساتھ نامزد کئے ہوئے جانوروں میں سے بت خانوں کے پجاریوں اور بتوں کے خدام کو دیتے تھے۔ 
{ وَ اَنْعٰمٌ حُرِّمَتْ ظُہُوۡرُہَا:اور کچھ مویشی ایسے ہیں جن پر چڑھنا حرام ٹھہرایا۔} اس آیت میں کفار کی چند بد عملیوں کا ذکر ہے۔ ایک تو اپنے بعض کھیتوں کو بتوں کے نام پر یوں وقف کرنا کہ اس کی پیداوار صرف مرد کھائیں عورتیں نہ کھائیں اور وہ آمدنی صرف وہ کھائیں جو ان بتوں کے خدام ہیں۔ دوسری یہ کہ بتوں کے نام پر جانور چھوڑ دینا جیسے بحیرہ، سائبہ وغیرہ جن سے کوئی کام نہ لیا جائے نہ کسی کھیت سے انہیں ہٹایا جائے یہ دونوں کام تو شرک ہیں مگر ان چیزوں کا کھانا حرام نہیں۔ اس لئے جہاد میں صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ان تمام چیزوں پر قبضہ کر کے استعمال فرماتے تھے۔ تیسری یہ کہ