Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
219 - 558
اہلِ عرب میں شرک و بت پرستی کی ابتداء کب ہوئی؟
	علامہ برہان الدین حلبی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’ اہلِ عرب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے زمانہ سے لے کر عمرو بن لُحَیّ کے زمانہ تک آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عقائد پر ہی ثابت قدم رہے، یہ وہ پہلا شخص ہے جس نے دینِ ابراہیمی کو تبدیل کیا اور اہلِ عرب کے لئے طرح طرح کی گمراہیاں شروع کیں۔ (1)
	شرک کے بانی عمرو بن لُحَیّ نے اہلِ عرب میں شرک اس طرح پھیلایا کہ مقامِ بلقاء سے بت لا کر مکہ میں نصب کئے اور لوگوں کو ان کی پوجا اور تعظیم کرنے کی دعوت دی۔ قبیلہ ثقیف کا ایک شخص ’’لات‘‘ جب مر گیا تو عمرو نے اس کے قبیلے والوں سے کہا: یہ مرا نہیں بلکہ اس پتھر میں چلا گیا ہے پھر انہیں اس پتھر کی پوجا کرنے کی دعوت دی۔ (2)
	اِسی عَمرو نے سائبہ اور بحیرہ کی بدعت ایجاد کی اورتَلْبِیَہ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ بتوں کو بھی شریک کیا۔ (3)
	 یہ شخص دین میں جس نئی بات کا آغاز کرتا لوگ اسے دین سمجھ لیتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ موسمِ حج میں لوگوں کو کھانا کھلایا کرتا اور انہیں لباس پہنایا کرتا تھا اور بسااوقات وہ موسمِ حج میں دس ہزار اونٹ ذبح کرتا اور دس ہزار ناداروں کو لباس پہناتا۔ (4)
	مرنے کے بعد اس کا انجام بہت دردناک ہوا، حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: میں نے عمرو بن عامر بن لحیّ خزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں کھینچ رہا ہے۔ (5)
{ وَ لَوْ شَآءَ اللہُ:اوراگر اللہ چاہتا ۔} یہاں چاہنا، بمعنی ارادہ کرنا ہے نہ کہ بمعنی پسند کرنا۔ پسند کرنے کو رضا کہا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اللہکے ارادے سے ہو رہا ہے یعنی جو کچھ بندہ اپنے اختیار سے کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس فعل کوپیدا فرما دیتا ہے تو یوں فعل آدمی کے اختیار سے ہوتا ہے لیکن یہ یاد رہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  صرف نیکیوں سے راضی ہوتا ہے نہ کہ برائیوں سے لہٰذا آیت پر کوئی اعتراض نہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…سیرت حلبیہ، باب نسبہ الشریف صلی اللہ علیہ وسلم، ۱/۱۸۔
2…عمدۃ القاری، کتاب المناقب، باب قصۃ خزاعۃ، ۱۱/۲۶۹-۲۷۰، تحت الحدیث: ۳۵۲۱۔
3 …سیرت حلبیہ، باب نسبہ الشریف صلی اللہ علیہ وسلم، ۱/۱۸۔
4…الروض الانف، اول ما کانت عبادۃ الحجر، اصل عبادۃ الاوثان، ۱/۱۶۶۔
5 …بخاری،کتاب المناقب، باب قصۃ خزاعۃ، ۲/۴۸۰، الحدیث: ۳۵۲۱۔