Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
209 - 558
{ وَکَذٰلِکَ نُوَلِّیۡ بَعْضَ الظّٰلِمِیۡنَ بَعْضًۢا:اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر مسلط کرتے ہیں۔} یعنی جس طرح ہم نے جنوں اور انسانو ں کو رسوا کیا یہاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا اسی طرح ہم ظالموں میں سے ایک کو دوسرے پر ان کے اعمال کی وجہ سے مسلط کردیتے ہیں اور ظالم کی ظالم کے ذریعے پکڑ فرماتے ہیں۔ (1)
ظلم کرنے والوں کو عبرت انگیز نصیحت:
	 اس آیتِ مبارکہ میں ظلم کرنے والوں کے لئے بڑی نصیحت ہے، چنانچہ حضرت ابوعبداللہ محمد بن احمد قرطبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ اس آیت میں ظلم کرنے والوں کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ اگر وہ اپنے ظلم سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ ان پر دوسرا ظالم مسلط کر دے گا جو انہیں ذلیل و خوار اور تباہ و برباد کر دے گا۔ اس آیت میں ہر قسم کے ظالم داخل ہیں ، وہ شخص جو گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کرتا ہے، جو حاکم یا افسر اپنی رعایا اور ماتحت لوگوں پر ظلم کرتا ہے، جو تاجر جعلی اشیاء اور ملاوٹ والی چیزیں فروخت کر کے خریداروں پر ظلم کرتا ہے، اسی طرح جو چور اور ڈاکو مسافروں اور شہریوں سے لوٹ مار کر کے ان پر ظلم کرتے ہیں یہ سب ظالم کی صف میں شامل ہیں ، ان تمام پر اللہ تعالیٰ کوئی ان سے بڑا ظالم مسلط کر دیتا ہے۔ (2)
	حضرت عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی قوم کی بھلائی چاہتا ہے تو اچھوں کو ان پر مقرر کرتا ہے اور کسی سے برائی کا ارادہ فرماتا ہے تو بروں کو ان پر مقرر فرماتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ جو قوم ظالم ہوتی ہے اس پر ظالم بادشاہ مقرر کیا جاتا ہے تو جو اس ظالم کے پنجۂ ظلم سے رہائی چاہیں انہیں چاہئے کہ ظلم چھوڑ دیں۔ (3)
	لہٰذاایسے حضرات کو چاہئے کہ درج ذیل روایات اور ایک قول کا بغور مطالعہ کر کے عبرت حاصل کریں اوراللہ ربُّ العالمین کی بارگاہ میں اپنے ظلم سے سچی توبہ کر کے مظلوموں سے معافی کی کوئی صورت بنائیں۔
(1)…حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو! اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو، خدا کی قسم! جو مومن دوسرے مومن پر ظلم کرے گا توقیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ اس ظالم سے انتقام لے گا۔ (4)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۹، ۳/۱۰۴۔
2…قرطبی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۹، ۴/۶۲، الجزء السابع۔
3…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۹، ۲/۵۶۔
4…کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الظلم والغضب، ۲/۲۰۲، الحدیث: ۷۶۲۱، الجزء الثالث۔