اٹھائے گایا سعید و شقی کو اکٹھا اٹھائے گا۔ اس آیت میں ان سرکش جِنّات سے خطاب ہے جنہوں نے بہت سے انسانوں کو بہکایا جبکہ مومن جنات تو اللہ تعالی ٰکی رحمت میں ہوں گے۔
{ وَ قَالَ اَوْلِیَآؤُہُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ:اور انسانوں میں سے ان کے دوست کہیں گے۔} انسانوں میں سے جو جنات کے دوست ہوں گے اور دونوں نے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا ہو گا اس طرح کہ’’ جنات نے انسانوں کوبرے راستے دکھائے اور بدعملیوں کو ان کے لئے آسان کیا اور جنات نے انسانوں سے اس طرح فائدہ اٹھایا کہ’’ انسانوں نے ان کی پوجا کی اور ان کے مطیع و فرماں بردار بنے۔ وہ حسرت سے کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا اور افسوس کہ آج ہم اپنی اس مدت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر فرمائی تھی۔ ہائے وقت گزر گیا اور قیامت کا دن آگیا اب صرف حسرت و ندامت ہی باقی رہ گئی ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرشتوں کی زبانی ان سے فرمائے گا: آگ تمہارا ٹھکانا ہے، تم ہمیشہ اس میں رہو گے۔
{ اِلَّا مَا شَآءَ اللہُ:مگر جسے خدا چاہے۔} اِس استثناء کے دو معنی ہیں (1) وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے لیکن قبر سے حشر تک کے زمانے اور میدانِ حشر میں حساب کتاب سے لے کر جہنم میں داخل ہونے تک جہنم میں نہ رہیں گے۔ (2) اس سے مراد وہ اوقات ہیں جن میں انہیں ایک عذاب سے دوسرے عذاب میں منتقل کیا جائے گا، جہنمی جب دوزخ کی آگ کی شدت سے فریاد کریں گے تو انہیں زَمْھَرِیرْ یعنی سخت ٹھنڈے اور برفانی طبقے میں ڈال دیا جائے گا اور جب زَمْھَرِیرْ کی ٹھنڈک سے گھبرا کر فریاد کریں گے تو انہیں پھر نارِ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ جمہور مفسرین نے حضرت عبدُاللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے ایک روایت یہ بھی نقل کی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں رب تعالیٰ کے علم میں ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کیا اور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی تصدیق کی، تو انہیں آگ سے نکال لیا جائے گا۔ (1)
وَکَذٰلِکَ نُوَلِّیۡ بَعْضَ الظّٰلِمِیۡنَ بَعْضًۢا بِمَا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ ﴿۱۲۹﴾٪
ترجمۂکنزالایمان:اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر مسلط کرتے ہیں بدلہ ان کے کیے کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر ان کے اعمال کے سبب مسلط کردیتے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۸، ۲/۵۶۔