کہنے کی تیسری وجہ یہ ہے کہ جنتیوں کو جنت میں دخول کے وقت سلام کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے، فرشتوں کی طرف سے اور اہلِ اعراف کی طرف سے ان کو سلام پیش کیا جائے گا اور جنتی بھی ایک دوسرے کو سلام کریں گے ۔ (1)
وَ یَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمِیۡعًا ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَکْثَرْتُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِۚ وَ قَالَ اَوْلِیَآؤُہُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیۡۤ اَجَّلْتَ لَنَا ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىکُمْ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللہُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ حَکِیۡمٌ عَلیۡمٌ ﴿۱۲۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جس دن اُن سب کو اٹھائے گا اور فرمائے گا اے جن کے گروہ تم نے بہت آدمی گھیرلیے اور ان کے دوست آدمی عرض کریں گے اے ہمارے رب ہم میں ایک نے دوسرے سے فائدہ اٹھایا اور ہم اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر فرمائی تھی فرمائے گا آگ تمہارا ٹھکانا ہے ہمیشہ اس میں رہو مگر جسے خدا چاہے اے محبوب بیشک تمہارا رب حکمت والا علم والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (یاد کرو) وہ دن جب وہ اُن سب کواٹھائے گا (اور فرمائے گا) اے جنوں کے گروہ! تم نے بہت سے لوگوں کو اپنا تابع بنالیا اور انسانوں میں سے جو ان کے دوست ہوں گے وہ کہیں گے : اے ہمارے رب! ہم نے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا اور ہم اپنی اس مدت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر فرمائی تھی۔ اللہ فرمائے گا: آگ تمہارا ٹھکانا ہے ، تم ہمیشہ اس میں رہو گے مگر جسے خدا چاہے ۔ بیشک تمہارا رب حکمت والا، علم والا ہے۔
{ وَ یَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمِیۡعًا ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ:اور جس دن وہ اُن سب کواٹھائے گا اور فرمائے گا اے جنوں کے گروہ!۔} قیامت میں اولاً سب اکٹھے ہوں گے اس لئے اسے’’ حشر‘‘ کہتے ہیں ، بعد میں اچھے بروں کی چھانٹ ہو جائے گی اس لئے اسے’’ یَوْمُ الْفَصْل‘‘ کہا جاتا ہے۔ سب کو اٹھانے سے مراد یا یہ ہے کہ مومن و کافر کو اکٹھا اٹھائے گایا انسان و جن کو اکٹھا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ۲/۱۰۷۔