Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
206 - 558
سے دل میں یہ حال پیدا ہوتا ہے جیسے لوہا زنگ لگ کر بیکار ہو جاتا ہے اسی طرح گناہوں کی وجہ سے دل زنگ آلود ہو کر حق قبول کرنے سے محروم ہو جاتا ہے۔
وَ ہٰذَا صِرٰطُ رَبِّکَ مُسْتَقِیۡمًا ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الۡاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّکَّرُوۡنَ ﴿۱۲۶﴾  

ترجمۂکنزالایمان: اور یہ تمہارے رب کی سیدھی راہ ہے ہم نے آیتیں مفصل بیان کردیں نصیحت ماننے والوں کے لیے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ تمہارے رب کی سیدھی راہ ہے بیشک ہم نے نصیحت ماننے والوں کے لیے تفصیل سے آیتیں بیان کردیں۔
{ وَ ہٰذَا صِرٰطُ رَبِّکَ مُسْتَقِیۡمًا:اور یہ تمہارے رب کی سیدھی راہ ہے۔} یعنی قرآنِ کریم یاحضور سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تعلیم وہ راستہ ہے جو بلا تَکَلُّف رب عَزَّوَجَلَّ تک پہنچا دیتا ہے جیسے سیدھا راستہ منزلِ مقصود تک پہنچاتا ہے اس لئے اسے’’ شریعت ‘‘کہتے ہیں یعنی وسیع اور سیدھا راستہ جس پر ہر شخص آسانی سے چل سکے۔ طریقت بھی رب عَزَّوَجَلَّ کا راستہ ہے مگر وہ ایسا تنگ اور پیچ دار ہے جس پر صرف واقف آدمی ہی چل سکتا ہے۔
لَہُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنۡدَ رَبِّہِمْ وَہُوَ وَلِیُّہُمْ بِمَا کَانُوۡا یَعْمَلُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے اپنے رب کے یہاں اور وہ ان کا مولیٰ ہے یہ ان کے کاموں کا پھل ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: ان کے لیے ان کے اعمال کے بدلے میں ان کے رب کے حضور سلامتی کا گھر ہے اور وہ ان کا مددگار ہے۔
{ لَہُمْ دَارُ السَّلٰمِ:ان کیلئے سلامتی کا گھر ہے۔} دارُالسلام کے دو معنی ہیں (1) سلام اللہ تعالی کا نام ہے، تو ’’دار السلام‘‘ کا معنی ہوا وہ گھر جس کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے اور یہ اضافت تشریف اور عزت افزائی کے لئے ہے جیسے بَیْتُ اللہ اور نَاقَۃُ اللہ میں ہے۔ (2) اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ’’ سلام‘‘ دار کی صفت ہے یعنی یہ سلامتی کا گھر ہے اور جنت کو ’’ دارُالسلام‘‘ اس لئے فرمایا ہے کہ جنت میں ہر قسم کے عیوب، تکلیفوں اور مشقتوں سے سلامتی ہے۔ (1) جنت کو دارُ السلام 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر کبیر، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ۵/۱۴۶۔