Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
200 - 558
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ویسے ہی ہم نے ہر بستی میں اس کے مجرموں کو (ان کا) سردار بنادیا تاکہ اس میں وہ اپنی سازشیں کریں اور وہ صرف اپنے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اور انہیں شعور نہیں۔ 
{ وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا:اور اسی طرح ہم نے بنا دئیے۔} ارشاد فرمایا کہ جیسے کفارِ مکہ دیگر کافروں کے سردار ہیں ویسے ہی ہم نے ہر بستی میں اس بستی کے مجرموں کو ان کا سردار بنا دیا تاکہ اس بستی میں وہ اپنی سازشیں کریں اور طرح طرح کے حیلوں ، فریبوں اور مکاریوں سے لوگوں کو بہکانے اور باطل کو رواج دینے کی کوشش کریں۔ ان سے یہ افعال اس لئے سرزد ہوئے کہ یہ رئیس تھے اور اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ رہا ہے کہ’’ ا س نے ہر بستی میں غریب لوگوں کو رسولوں کی پیروی کرنے والا اور نافرمانوں کو بستی کا سردار بنایا۔ (1)
پیشواؤں کے بگڑنے کا نقصان اور سنبھلنے کا فائدہ:
	ا س سے معلوم ہوا کہ قوم کے سرداروں کا بگڑنا قوم کو ہلاک کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنۡ نُّہۡلِکَ قَرْیَۃً اَمَرْنَا مُتْرَفِیۡہَا فَفَسَقُوۡا فِیۡہَا فَحَقَّ عَلَیۡہَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰہَا تَدْمِیۡرًا ﴿۱۶﴾‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں توہم اس کے خوشحال لوگوں کو (اپنے رسولوں کے ذریعے اپنی اطاعت کا)حکم دیتے ہیں پھر وہ لوگ اس بستی میں نافرمانی کرتے ہیں تو اس بستی پر (عذابِ الٰہی کی) بات پکی ہوجاتی ہے تو ہم اسے تباہ وبرباد کردیتے ہیں۔
	اسی طرح پیشواؤں کا سنبھل جانا قوم کو سنبھالا دینا ہے۔
{ لِیَمْکُرُوۡا فِیۡہَا:تاکہ اس میں وہ اپنی سازشیں کریں۔} مکہ مکرمہ آنے والے ہر راستے پر کفارِ مکہ نے چار چار افراد بٹھا دئیے تاکہ وہ لوگوں کو نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَپر ایمان لانے سے روکیں ، چنانچہ جو شخص بھی مکہ میں حاضر ہوتا یہ لوگ اس سے کہتے کہ ’’تم اس شخص سے بچنا یہ کاہن، ساحر اور کذاب ہے۔ ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ درحقیقت یہ صرف اپنے خلاف سازشیں کررہے ہیں ، ان سازشوں کا وبال انہی پر پڑے گا اور انہیں اس کا شعور نہیں۔ (3)
	اس آیت میں سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ سردارانِ مکہ کی دشمنی سے پریشان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ۲/۵۳۔
2…بنی اسرائیل:۱۶۔
3…بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ۲/۱۰۶۔