تو حضرت امیر حمزہ یا حضرت عمر یا حضرت عمار بن یاسررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اور یونہی ہر ایمان لانے والے کا حال اس کے مشابہ ہے جو مردہ تھا ایمان نہ رکھتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو روحِ ایمان عطا فرما کر زندہ کر دیا اور باطنی نور عطا فرمایا کہ جس کی روشنی میں وہ لوگوں کے درمیان چلتا ہے اور ابوجہل اور اس جیسوں کی حالت یہی ہے کہ وہ کفر وجہل کی تاریکیوں میں گرفتار ہے اور وہ ان تاریکیوں سے نکلنے والا بھی نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ گنہگار مومن اپنے گناہ کو اچھا نہیں سمجھتا اس لئے وہ مومن رہتا ہے لیکن کافر اپنی بد کرداریوں کو اچھا جانتا ہے اور ان پر ناز کرتا ہے اس لئے وہ لائقِ مغفرت نہیں۔
نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے محبت کی برکت:
حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ والے واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی محبت اور تائید و نصرت بہت خیروخوبی کا ذریعہ بنتی ہے جیسے یہاں ان کے لئے ایمان کی دولت حاصل کرنے کا ذریعہ بن گئی۔ اسی طرح حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :کسی آدمی نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں عرض کی: قیامت کب آئے گی؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے فرمایا ’’تم نے ا س کے لئے کیا تیار کر رکھا ہے؟ اس نے عرض کی: میرے پاس تو کوئی عمل نہیں سوائے ا س کے کہ میں اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے محبت رکھتا ہوں۔ ارشاد فرمایا ’’تم ان کے ساتھ ہو جن سے محبت رکھتے ہو۔ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ہمیں اتنا کسی چیزنے خوش نہیں کیا جتنا حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے اس فرمان نے کیا کہ تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے محبت کرتے ہو۔ میں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے اور حضرت ابو بکر، حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے محبت کرتا ہوں لہٰذا میں امیدوار ہوں کہ ان کی محبت کے باعث میں ان کے ساتھ رہوں گا اگرچہ میرے اعمال ان جیسے نہیں۔ (1)
وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا فِیۡ کُلِّ قَرْیَۃٍ اَکٰبِرَ مُجۡرِمِیۡہَا لِیَمْکُرُوۡا فِیۡہَا ؕ وَ مَا یَمْکُرُوْنَ اِلَّا بِاَنۡفُسِہِمْ وَمَا یَشْعُرُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے مجرموں کے سرغنہ کیے کہ اس میں داؤں کھیلیں اور داؤں نہیں کھیلتے مگر اپنی جانوں پر اور انہیں شعورنہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، باب مناقب عمر بن الخطاب۔۔۔ الخ، ۲/۵۲۷، الحدیث: ۳۶۸۸۔