نہ ہوں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے پہلے جو انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامگزرے وہ جس شہر میں مبعوث ہوئے وہاں کے سرداروں نے ان کی اسی طرح مخالفت کی تھی۔ (1)
وَ اِذَا جَآءَتْہُمْ اٰیَۃٌ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَاۤ اُوۡتِیَ رُسُلُ اللہِ ؕۘؔ اَللہُ اَعْلَمُ حَیۡثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ ؕ سَیُصِیۡبُ الَّذِیۡنَ اَجْرَمُوۡا صَغَارٌ عِنۡدَ اللہِ وَعَذَابٌ شَدِیۡدٌۢ بِمَا کَانُوۡا یَمْکُرُوۡنَ ﴿۱۲۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آئے کہتے ہیں ہم ہر گز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہمیں بھی ویسا ہی نہ ملے جیسا اللہ کے رسولوں کو ملا اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے عنقریب مجرموں کو اللہ کے یہاں ذلت پہنچے گی اور سخت عذاب بدلہ ان کے مکر کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو کہتے ہیں کہ ہم ہر گز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہمیں بھی ویسا ہی نہ ملے جیسا اللہ کے رسولوں کو دیا گیا۔ اللہ اسے خوب جانتا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھے۔ عنقریب مجرموں کو ان کے مکرو فریب کے بدلے میں اللہ کے ہاں ذلت اور شدید عذاب پہنچے گا۔
{ وَ اِذَا جَآءَتْہُمْ اٰیَۃٌ:اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آئے۔} شانِ نزول: ولید بن مغیرہ نے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے کہا: ’’ اگر نبوت حق ہے تو میں آپ سے زیادہ اس کا مستحق ہوں کیونکہ میں عمر میں بڑا ہوں اور آپ سے زیادہ مالدار ہوں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ،ابو جہل نے کہا کہ’’ہم نے عبدِ مناف کی اولاد سے سرداری میں مزاحمت کی۔ اور اب وہ کہتے ہیں کہ ہم میں ایک نبی ہے جس کی طرف وحی نازل ہوتی ہے۔ اللہ کی قسم! ہم اس پر ایمان لائیں گے نہ کبھی اس کی پیروی کریں گے یہاں تک کہ ہمارے پاس بھی ویسے ہی وحی آئے جیسے اس کے پاس آتی ہے۔ (2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…البحر المحیط، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۳، ۴/۲۱۷۔
2…تفسیر بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۴، ۲/۱۰۶۔