Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
175 - 558
 اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی خدمت میں عرض کیاکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے معجزات بیان فرماتے ہیں۔ اگر ہم کو ہماری منہ مانگی نشانیاں دکھا دیں تو ہم آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لے آئیں گے۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا:’’ تم کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا: صفا پہاڑ سونے کا ہو جائے یا ہمارے بعض مردے جی کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی گواہی دے دیں یا فرشتے ہمارے سامنے آجائیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے فرمایا:’’ اگر ان میں سے کچھ دکھا دوں تو ایمان لے آؤ گے ۔ وہ قسمیں کھا کر بولے کہ’’ ضرور۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارادہ فرمایا کہ دعا کریں۔ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے آکر عرض کیا کہ’’ اے محبوب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَآ پ جو دعا کریں گے قبول ہوگی۔ لیکن اگر یہ لوگ ایمان نہ لائے تو ابھی ہلاک کر دئیے جائیں گے اور اگر زندہ رہے تو شاید ان میں کوئی ایمان لے آئے۔ تب حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے دعا کا ارادہ چھوڑ دیا۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔ (1)
وَ نُقَلِّبُ اَفْـِٕدَتَہُمْ وَ اَبْصٰرَہُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوۡا بِہٖۤ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ نَذَرُہُمْ فِیۡ طُغْیٰنِہِمْ یَعْمَہُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم پھیر دیتے ہیں ان کے دلوں اور آنکھوں کو جیسا وہ پہلی بار اس پرایمان نہ لائے تھے اور انہیں چھوڑ دیتے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم ان کے دلوں اوران کی آنکھوں کوپھیردیں گے جیسا کہ یہ پہلی باراس پر ایمان نہ لائے تھے اور انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیں گے۔
{ وَ نُقَلِّبُ: اور ہم پھیر دیں گے۔}ارشاد فرمایا کہ جس طرح پہلے ان لوگوں کے سامنے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے دستِ اقدس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نشانیاں ظاہر ہوئی تھیں جیسے چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا اور اسی طرح کے دیگر عظیم معجزات لیکن یہ ان پر ایمان نہیں لائے تھے اسی طرح یہ اب بھی ایمان نہیں لائیں گے اور ان کے ایمان لانے کے سب وعدے جھوٹے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیر بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۲/۱۰۰-۱۰۱۔