پارہ نمبر…8 آٹھواں پارہ وَلَوْ اَنَّنَا
وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیۡہِمُ الْمَلٰٓئِکَۃَ وَکَلَّمَہُمُ الْمَوْتٰی وَحَشَرْنَا عَلَیۡہِمْ کُلَّ شَیۡءٍ قُبُلًا مَّا کَانُوۡا لِیُؤْمِنُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللہُ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ یَجْہَلُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے اور ہم ہر چیز ان کے سامنے اٹھا لاتے جب بھی وہ ایمان لانے والے نہ تھے مگر یہ کہ خدا چاہتا و لیکن ان میں بہت نرے جاہل ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اُتار دیتے اور مردے ان سے باتیں کرتے اور ہم ہر چیز ان کے سامنے جمع کردیتے جب بھی وہ ایمان لانے والے نہ تھے مگر یہ کہ خدا چاہتا لیکن ان میں اکثر لوگ جاہل ہیں۔
{ وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیۡہِمُ الْمَلٰٓئِکَۃَ:اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اُتار دیتے۔}پچھلی آیت میں اجمالی طور پر بیان ہوا تھا کہ نشانیاں طلب کرنے والے کفار کے مطالبات پورے کر دئیے جائیں تو بھی وہ ایمان نہ لائیں گے اور اس آیتِ مبارکہ میں اس اجمال کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ شانِ نزول: کفارِ مکہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے مذاق کے طور پر کہا کرتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے مردوں کو زندہ کردیجئے تاکہ ہم ان سے پوچھیں کہ محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ جو فرماتے ہیں وہ حق ہے یا نہیں اور آپ ہمیں فرشتے دکھائیے جو ہمارے سامنے آپ کے رسول ہونے کی گواہی دیں یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لائیے۔ ان کے جواب میں یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔ (1)
اور فرمایا گیا کہ ’’ اے محبوب! اگر ہم کفارکے مطالبے کے مطابق ان کی طرف فرشتے اُتار دیں جنہیں وہ ان کی اصلی شکل میں دیکھ لیں اور وہ ان سے آپ کی رسالت کی گواہی سن لیں۔ یونہی اگر ہم ان کے مطلوبہ یا عام مردے زندہ کر کے ان کے سامنے کھڑے کر دیں تاکہ یہ ان سے معلوم کر لیں کہ آپ جو پیغام لائے ہیں وہ حق ہے یا نہیں تب بھی یہ ایمان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۱۱، ۲/۴۷۔