کی بدگوئیوں کو روکنے کے لئے اس کو منع فرمایا گیا۔ ابنِ انباری کا قول ہے کہ یہ حکم اول زمانہ میں تھا جب مسلمانوں میں طاقت آگئی کہ کفار کو ربعَزَّوَجَلَّکی شان میں گستاخی سے روک سکیں تو انہیں اس کی اجازت مل گئی۔ (1) ورنہ توخود قرآنِ کریم میں شیطان اور بتوں اور سردارانِ قریش کی برائیاں بکثرت بیان کی گئی ہیں۔
آیت ’’وَلَا تَسُبُّوا‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
مفتی احمد یار خاں نعیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ اس آیت سے چند مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ اگر غیر ضروری عبادت ایسے فساد کا ذریعہ بن جائے جو ہم سے مٹ نہ سکے تو اس کو چھوڑ دیا جائے۔ دوسرے یہ کہ واعظ و عالم اس طریقے سے وعظ نہ کرے جس سے لوگوں میں ضد پیدا ہو جائے اور فساد اور مار پیٹ تک نوبت پہنچے۔ تیسرے یہ کہ اگر کسی کے متعلق یہ قوی اندیشہ ہو کہ اسے نصیحت کرنا اور زیادہ خرابی کا باعث ہو گا تو نہ کرے۔ چوتھے یہ کہ کبھی ضد سے انسان اپنا دین بھی کھو بیٹھتا ہے کیونکہ کفار ِمکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو مانتے تھے پھر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی ضد میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی شان میں بھی بے ادبی کرتے تھے۔(2)
وَ اَقْسَمُوۡا بِاللہِ جَہۡدَ اَیۡمٰنِہِمْ لَئِنۡ جَآءَتْہُمْ اٰیَۃٌ لَّیُؤۡمِنُنَّ بِہَا ؕ قُلْ اِنَّمَا الۡاٰیٰتُ عِنۡدَ اللہِ وَمَا یُشْعِرُکُمْ ۙ اَنَّہَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں پوری کوشش سے کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو ضرور اس پر ایمان لائیں گے۔ تم فرما دو کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور تمہیں کیا خبر کہ جب وہ آئیں تو یہ ایمان نہ لائیں گے۔ ترجمۂکنزُالعِرفان: اور انہوں نے بڑی تاکید سے اللہ کی قسم کھائی کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو ضرور اس پر ایمان لائیں گے۔تم فرما دو کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور تمہیں کیا خبر کہ جب وہ (نشانیاں ) آئیں گی تو (بھی) یہ ایمان نہیں لائیں گے۔
{ وَ اَقْسَمُوۡا بِاللہِ جَہۡدَ اَیۡمٰنِہِمْ:اور انہوں نے بڑی تاکید سے اللہکی قسم کھائی۔}کفارِ مکہ نے تاجدارِ رسالت صَلَّی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۲/۴۶۔
2…نورالعرفان،الانعام،تحت الآیۃ:۱۰۸،ص:۲۲۴۔