Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
173 - 558
{ اِتَّبِعْ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ:تم اس وحی کی پیروی کرو جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے۔} سلطانِ دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے فرمایا گیا کہ’’ تم اس وحی کی پیروی کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے بھیجی گئی ہے اور کفار کی بے ہودہ گوئیوں کی طرف التفات نہ کرو ۔اس میں نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تسکینِ خاطر ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکفّار کی یاوہ گوئیوں سے رنجیدہ نہ ہوں۔ یہ ان کی بدنصیبی ہے کہ وہ ایسی واضح دلیلوں سے فائدہ نہ اُٹھائیں۔
وَلَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ فَیَسُبُّوا اللہَ عَدْوًۢا بِغَیۡرِ عِلْمٍ ؕ کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَہُمْ ۪ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ مَّرْجِعُہُمْ فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعْمَلُوۡنَ ﴿۱۰۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور انہیں گالی نہ دو جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے یونہی ہم نے ہر اُمت کی نگاہ میں اس کے عمل بھلے کردیے ہیں پھر انہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے اور وہ انہیں بتادے گا جو کرتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور اُنہیں برابھلا نہ کہو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ جہالت کی وجہ سے اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے یونہی ہم نے ہر اُمت کی نگاہ میں اس کے عمل کو آراستہ کردیا پھر انہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے تو وہ انہیں بتادے گا جووہ کرتے تھے۔
{ وَلَا تَسُبُّوا: اور برا نہ کہو۔} حضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قول ہے کہ مسلمان کفار کے بتوں کی بُرائی کیا کرتے تھے تاکہ کفار کو نصیحت ہو اور وہ بت پرستی کے عیب سے باخبر ہوں مگر ان ناخدا شناس جاہلوں نے بجائے نصیحت حاصل کرنے کے شانِ الٰہی میں بے ادبی کے ساتھ زبان کھولنی شروع کی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (1)کہ اگرچہ بتوں کو برا کہنا اور ان کی حقیقت کا اظہار طاعت و ثواب ہے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی شان میں کفار
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…تفسیر بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۲/۱۰۰۔