Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
15 - 558
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والوحرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لیے حلال کیں اور حد سے نہ بڑھو بیشک حد سے بڑھنے والے اللہ کو ناپسند ہیں۔ اور کھاؤ جو کچھ تمہیں اللہ نے روزی دی حلال پاکیزہ او ر ڈرو اللہ سے جس پر تمہیں ایمان ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ قرار دوجنہیں اللہنے تمہارے لئے حلال فرمایا ہے اور حد سے نہ بڑھو۔ بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے۔ اور جو کچھ تمہیں اللہ نے حلال پاکیزہ رزق دیا ہے اس میں سے کھاؤ اور اس اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھنے والے ہو۔ 
{ لَا تُحَرِّمُوۡا طَیِّبٰتِ:پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ۔} اس آیت ِ مبارکہ کا شانِ نزول یہ ہے کہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی ایک جماعت سرورِکائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا وعظ سن کر ایک روز حضرت عثمان بن مظعون رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہاں جمع ہوئی اور اُنہوں نے آپس میں ترک ِدنیا کا عہد کیا اور اس پر اتفاق کیا کہ وہ ٹاٹ پہنیں گے اور ہمیشہ دن میں روزے رکھیں گے اور ساری رات عبادتِ الٰہی میں گزارا کریں گے، بستر پر نہ لیٹیں گے اور گوشت اور چکنائی نہ کھائیں گے اور عورتوں سے جدا رہیں گے نیز خوشبو نہ لگائیں گے ۔اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور انہیں اس ارادہ سے روک دیا گیا۔ (1)
اعمال میں اِعتدال کا حکم:
	احادیث ِ مبارکہ میں اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جن میں نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اعتدال کا حکم فرمایا اور عبادت کرنے میں خود کو بہت زیادہ تکلیف میں ڈالنے سے منع فرمایا ۔ اس کے لئے درج ذیل 3 احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
(1)… اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا فرماتی ہیں ’’رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ان کے پاس تشریف فرما تھے،اس وقت حضرت حولاء بنتِ تُوَیت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا ان کے پاس سے گزریں۔ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھانے تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے عرض کی:’’یہ حولاء بنت تُوَیت (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا) 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر قرطبی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۸۷، ۳/۱۵۶، الجزء السادس۔