Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
16 - 558
ہیں ، لوگ کہتے ہیں کہ یہ رات بھر نہیں سوتیں۔ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: رات بھر نہیں سوتیں ! اتنا عمل کیا کرو جتنا آسانی سے کر سکو، بخدا! اللہتعالیٰ نہیں اکتائے گا لیکن تم اکتا جاؤ گے۔ (1) 
(2)…حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ،رحمت ِعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ مسجد میں تشریف لائے، اس وقت مسجد کے دو ستونوں کے درمیان رسی تانی ہوئی تھی، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: یہ کیا ہے؟ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے عرض کی: یہ حضرت زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا کی رسی ہے وہ نماز پڑھتی ہیں اور جب ان پر تھکن یا سستی طاری ہوتی ہے تو اس رسی کو پکڑ لیتی ہیں۔ حضور سیدُ المرسَلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اس رسی کو کھول دو، تم میں سے ہر شخص اس وقت تک نماز پڑھے جب تک وہ آسانی سے نماز پڑھ سکے اور جب اس پر تھکن یا سستی طاری ہو تو وہ بیٹھ جایا کرے۔ (2)
(3)… حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’میں ہمیشہ روزے رکھتا تھا اورہر رات قرآنِ مجید کی تلاوت کرتا تھا، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے سامنے میرا ذکر کیا گیا تو آپ نے مجھے بلوایا، میں خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ تم ہمیشہ روزے رکھتے ہو اور ہر رات قرآنِ مجید پڑھتے ہو؟ میں نے عرض کی: کیوں نہیں ، یا رسول اللہ ! لیکن میں نے اس عبادت سے صرف خیر کا ارادہ کیا ہے۔ سرکارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’تمہارے لئے یہ کافی ہے کہ تم مہینے میں صرف تین دن روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے عرض کی:یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، میں ا س سے افضل کی طاقت رکھتا ہوں۔ ارشاد فرمایا: تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے، تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے، تمہارے جسم کا تم پر حق ہے، تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے روزے رکھو کیونکہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے۔ میں نے عرض کی :اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے نبی! حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کے روزے کس طرح تھے؟ ارشاد فرمایا ’’ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ اور فرمایا ’’ہر ماہ میں ایک قرآنِ پاک ختم کیا کرو۔ میں نے عرض کی:یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، میں اس سے افضل کی طاقت رکھتا ہوں۔ ارشاد فرمایا: ’’ پھر بیس دن میں ایک قرآنِ پاک ختم کر لو۔ میں نے عرض کی: میں اس سے افضل کی طاقت رکھتا ہوں۔ارشاد فرمایا ’’ پھر دس دن میں ایک

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب فضیلۃ العمل الدائم من قیام اللیل وغیرہ، ص۳۹۴، الحدیث: ۲۲۰(۷۸۵)۔
2…مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب فضیلۃ العمل الدائم من قیام اللیل وغیرہ، ص۳۹۴، الحدیث: ۲۱۹(۷۸۴)۔