ستارے، چاند اور سورج کے بارے یہ فرمایا تو کیا آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس سے پہلے دن رات کے فرق کو اور سورج چاند کے غروب ہونے کو کبھی نہیں دیکھا تھا، ایسا تو ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ تو معلوم ہوا کہ سورج چاند ستارے کے حوالے سے آپ کا کلام صرف قوم کو سمجھانے کیلئے تھا اور اس چیز کا اس سے بھی زیادہ صراحت کے ساتھ بیان خود نیچے آیت نمبر 83 میں موجود ہے۔
اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَ حَنِیۡفًا وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ ﴿ۚ۷۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان و زمین بنائے ایک اسی کا ہوکر اور میں مشرکوں میں نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: میں نے ہر باطل سے جدا ہو کر اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔
{ اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجْہِیَ: میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے جھوٹے معبودوں سے بیزاری ظاہر کرنے کے بعد اپنا عقیدہ اور دینِ حق کا اعلان فرما دیا چنانچہ فرمایا کہ’’ میں نے ہر باطل سے جدا ہو کر اپنا منہ اس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یعنی اسلام کے سوا باقی تمام ادیان سے جدا رہ کرمیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سامنے جھکنے والا ہوں۔
حنیف کے معنی:
اس آیت میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے خود کو حنیف فرمایا۔ حنیف کے معنی ہیں ’’ تمام جھوٹے دینوں سے صاف اور ہرباطل سے جدا۔ ‘‘
دینِ حق کے اِستحکام کی صورت:
اس سے معلوم ہوا کہ دینِ حق کا قیام واستحکام جب ہی ہوسکتا ہے جب کہ تمام باطل دینوں سے بیزاری اور دینِ