حق پر پختگی ہو۔ دین کے معاملے میں پلپلے پن کا مظاہرہ کرنے ، سب کو اپنی اپنی جگہ درست ماننے اور سب مذاہب میں اتفاق اور اتحاد پیدا کرنے کی کوششیں کرنے سے دینِ حق کا استحکام ممکن نہیں۔
نماز سے پہلے پڑھا جانے والاوظیفہ:
حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نماز شروع کرنے سے پہلے ایک وظیفہ پڑھا کرتے تھے ، اس کے بارے میں حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَجب نماز شروع کرنے کے لئے کھڑے ہوتے تو یہ پڑھا کرتے تھے ’’وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَحَنِیْفًا وَمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنََ‘‘ میں نے ہر باطل سے جدا ہو کر اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کامجھے حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمان ہوں۔ (1)
وَ حَآجَّہٗ قَوْمُہٗ ؕ قَالَ اَتُحٰٓجُّوۡٓنِّیۡ فِی اللہِ وَ قَدْ ہَدٰىنِؕ وَلَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِکُوۡنَ بِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ رَبِّیۡ شَیْـًٔا ؕ وَسِعَ رَبِّیۡ کُلَّ شَیۡءٍ عِلْمًا ؕ اَفَلَا تَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۸۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ان کی قوم ان سے جھگڑنے لگی کہا کیا اللہ کے بارے میں مجھ سے جھگڑتے ہو وہ تو مجھے راہ بتا چکا اور مجھے ان کا ڈر نہیں جنہیں تم شریک بتاتے ہو ہاں جو میرا ہی رب کوئی بات چاہے میرے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے تو کیا تم نصیحت نہیں مانتے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان کی قوم ان سے جھگڑنے لگی( ابراہیم نے) فرمایا: کیاتم اللہ کے بارے میں مجھ سے جھگڑتے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب الدعاء فی صلاۃ اللیل وقیامہ، ص۳۹۰، الحدیث: ۲۰۱(۷۷۱)۔