وقت معرفت ِ الٰہی سے شناسا ہوتے ہیں۔ اس عقیدہ کو ذہن نشین رکھتے ہوئے اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کی تفسیر سمجھنے کیلئے قرآنِ پاک میں بیان کردہ واقعے کو ذیل میں ذرا تفصیل سے پڑھئے۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ابتدا ہی سے توحید کی حمایت اور کفریہ عقائد کارد کرنا شروع فرما دیا اور پھر جب ایک سوراخ سے رات کے وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے زہرہ یا مشتری ستارہ کو دیکھا تو لوگوں کے سامنے توحید ِ باری تعالیٰ کی دلیل بیان کرنا شروع کردی کیونکہ اس زمانہ کے لوگ بت اور ستاروں کی پرستش کرتے تھے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ایک نہایت نفیس اور دل نشیں پیرایہ میں انہیں غوروفکر کی طرف رہنمائی کی جس سے وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ تمام جہان عدم سے وجود میں آنے والا ہے اور پھر ختم ہونے والا ہے تو یہ معبود نہیں ہوسکتا بلکہ تمام جہان بذات ِ خودکسی وجود میں لانے والی ذات کا محتاج ہے جس کے قدرت وا ختیار سے اس میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ چنانچہ پہلے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ستارے کو دیکھا تو فرمایا کہ’’ کیا اسے میرا رب کہتے ہو ؟پھر جب وہ ڈوب گیا تو فرمایا کہ’’ میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔یعنی جس میں ایسے تغیر ات ہورہے ہیں وہ خدا نہیں ہوسکتا۔ پھر اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے چاند کو چمکتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : کیا اسے میرا رب کہتے ہو؟ پھر جب وہ ڈوب گیا تو فرمایا: اگر مجھے میرے رب عَزَّوَجَلَّنے ہدایت نہ دی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں سے ہوجاتا۔ اس میں اُس قوم کو تنبیہ ہے کہ جو چاند کومعبود مانتے تھے، انہیں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے گمراہ قرار دیا اور خود کو ہدایت پر۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی یہ باتیں ان کا رد کرنے کیلئے ہی تھیں۔ چاند کے معبود نہ ہونے پر بھی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے یہی دلیل بیان فرمائی کہ اس کا ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہونا قابلِ فنا ہونے کی دلیل ہے۔ پھر اس کے بعد آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے سورج کو جگمگاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ’’ کیا اسے میرا رب کہتے ہو ؟یہ تو ان سب سے بڑا ہے، پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو فرمایا: اے میری قوم! میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم اللہ عَزَّوَجَلَّکاشریک ٹھہراتے ہو۔ یوں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ثابت کردیا کہ ستاروں میں چھوٹے سے بڑے تک کوئی بھی رب ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ،ان کا معبود ہونا باطل ہے اور قوم جس شرک میں مبتلا ہے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اس سے بیزاری کا اظہار کردیا اور اس کے بعد دینِ حق کا بیان فرمایا جو اگلی آیتوں میں آرہا ہے۔حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ستارے، چاند اور سورج کے بارے میں فرامین لوگوں کو سمجھانے کیلئے تھے اور معاذاللہ، اپنے بارے میں نہ تھے اس کی بہت واضح دلیل یہ بھی ہے کہ جب آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے