ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر جب ان پر رات کا اندھیرا چھایا تو ایک تارا دیکھا، فرمایا : کیا اسے میرا رب ٹھہراتے ہو؟ پھر جب وہ ڈوب گیا تو فرمایا: میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ پھر جب چاند چمکتا دیکھا تو فرمایا: کیا اسے میرا رب کہتے ہو؟ پھر جب وہ ڈوب گیا تو فرمایا: اگر مجھے میرے رب نے ہدایت نہ دی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں سے ہوتا۔ پھر جب سورج کو چمکتا دیکھا تو فرمایا: کیا اسے میرا رب کہتے ہو؟یہ تو ان سب سے بڑا ہے پھر جب وہ ڈوب گیا تو فرمایا: اے میری قوم! میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم (اللہ کا) شریک ٹھہراتے ہو۔
{ فَلَمَّا جَنَّ عَلَیۡہِ الَّیۡلُ: تو جب ان پر رات کا اندھیرا چھایا۔} مفسرین اور مؤرخین کا بیان ہے کہ نمرود بن کنعان بڑا جابر بادشاہ تھا، سب سے پہلے اُسی نے تاج سر پر رکھا۔ یہ بادشاہ لوگوں سے اپنی پوجا کرواتا تھا، کاہن اور نجومی بڑی کثرت سے اس کے دربار میں حاضر رہتے تھے۔ نمرود نے خواب دیکھا کہ ایک ستارہ طلوع ہوا ہے اور اس کی روشنی کے سامنے آفتاب وماہتاب بالکل بے نور ہوگئے۔ اس سے وہ بہت خوف زدہ ہوااور اس نے کاہنوں سے اس خواب کی تعبیر دریافت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس سال تیری سلطنت میں ایک فرزند پیدا ہوگا جو تیرے ملک کے زوال کا باعث ہوگا اور تیرے دین والے اس کے ہاتھ سے ہلاک ہوں گے۔ یہ خبر سن کر وہ پریشان ہوا اور اُس نے حکم دیا کہ جو بچہ پیدا ہو قتل کر ڈالا جائے اور مرد عورتوں سے علیحدہ رہیں اور اس کی نگہبانی کے لئے ایک محکمہ قائم کردیا گیا مگر تقدیرات ِالٰہیہ کو کون ٹال سکتا ہے ۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ ماجدہ حاملہ ہوئیں اور کاہنوں نے نمرود کو اس کی بھی خبر دی کہ وہ بچہ حمل میں آگیا لیکن چونکہ حضرت کی والدہ صاحبہ کی عمر کافی کم تھی ان کا حمل کسی طرح پہچانا ہی نہ گیا۔ جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت کا وقت قریب آیا تو آپ کی والدہ اس تہ خانے میں چلی گئیں جو آپ کے والد نے شہر سے دور کھود کر تیار کیا تھا، وہاں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت ہوئی اور وہیں آپ رہے۔ پتھروں سے اس تہ خانہ کا دروازہ بند کردیا جاتا تھا، روزانہ والدہ صاحبہ دودھ پلا آتی تھیں اور جب وہاں پہنچتی تھیں تو دیکھتی تھیں کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی انگلی کا کنارہ چوس رہے ہیں اور اس سے دودھ برآمد ہوتا ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بہت جلد بڑھتے تھے۔ اس میں اختلاف ہے کہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تہ خانہ میں کتنا عرصہ رہے، بعض کہتے ہیں سات برس اور بعض نے کہا کہ تیرہ برس اور بعض نے کہا کہ سترہ برس رہے۔ (1)
اسلامی عقیدہ اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا واقعہ :
یہ مسئلہ یقینی ہے کہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہرحال میں معصوم ہوتے ہیں اور وہ شروع ہی سے ہر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۷۶، ۲/۲۹-۳۰۔