Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
142 - 558
کھول دیا گیا یہاں تک کہ آپ نے سب سے نیچے کی زمین تک نظر کی اور زمینوں کے تمام عجائبات دیکھے ۔ مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ رُویت باطنی نگاہ کے ساتھ تھی یا سر کی آنکھوں سے۔ (1)
	پھر اس معراجِ ابراہیمی کا مقصد بیان فرمایا کہ ہم نے یہ نشانیاں انہیں اس لئے دکھائیں کہ وہ دیکھ کر یقین کرنے والوں میں سے ہوجائیں  کیونکہ ہر ظاہر و مخفی چیز اُن کے سامنے کردی گئی اور مخلوق کے اعمال میں سے کچھ بھی ان سے نہ چھپا رہا۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو عظیم معراج ہوئی  مگر ہمارے آقا، حضور سیدُالعالمین، محمد رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو اس سے بہت بڑھ کر معراج ہوئی حتّٰی کہ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ  ’’دَنٰی فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنیٰ ‘‘کے مقام پر فائز ہوگئے۔ 
فَلَمَّا جَنَّ عَلَیۡہِ الَّیۡلُ رَاٰکَوْکَبًا ۚ قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الۡاٰفِلِیۡنَ ﴿۷۶﴾ فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنۡ لَّمْ یَہۡدِنِیۡ رَبِّیۡ لَاَکُوۡنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیۡنَ ﴿۷۷﴾ فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَۃً قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ہٰذَاۤ اَکْبَرُ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشْرِکُوۡنَ ﴿۷۸﴾
 ترجمۂکنزالایمان: پھر جب ان پر رات کا اندھیرا آیا ایک تارا دیکھا بولے اسے میرا رب ٹھہراتے ہو پھر جب وہ ڈوب گیا بولے مجھے خوش نہیں آتے ڈوبنے والے۔ پھر جب چاند چمکتا دیکھا بولے اسے میرا رب بتاتے ہو پھر جب وہ ڈوب گیا کہا اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں بھی انہیں گمراہوں میں ہوتا۔پھر جب سورج جگمگاتا دیکھا بولے اسے میرا رب کہتے ہو یہ تو ان سب سے بڑا ہے پھر جب وہ ڈوب گیا کہا اے قوم میں بیزار ہوں ان چیزوں سے جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۷۵، ۲/۲۸۔