Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
141 - 558
’’ نَعْبُدُ اِلٰہَکَ وَ اِلٰـہَ اٰبَآئِکَ اِبْرٰہٖمَ وَ اِسْمٰعِیۡلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰـہًا وّٰحِدًا‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:ہم آپ کے معبود اور آپ کے آباؤ و اجداد ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو ایک معبود ہے۔
 	اس میں حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے آباء میں ذکر کیا گیا ہے حالانکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے چچا ہیں۔ اور حدیث شریف میں ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ رُدُّوْاعَلَیَّ اَبِیْ‘‘ میرے باپ کو میرے پاس لوٹا دو۔ (2) یہاں ’’اَبِی ْ‘‘ سے حضرت عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مراد ہیں جو کہ حضورِا قدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے چچا ہیں۔
وَکَذٰلِکَ نُرِیۡۤ اِبْرٰہِیۡمَ مَلَکُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَلِیَکُوۡنَ مِنَ الْمُوۡقِنِیۡنَ ﴿۷۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور اس لیے کہ وہ عینُ الیقین والوں میں ہوجائے۔ ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی عظیم سلطنت دکھاتے ہیں اور اس لیے کہ وہ عینُ الیقین والوں میں سے ہوجائے۔ 
{ وَکَذٰلِکَ نُرِیۡۤ اِبْرٰہِیۡمَ: اور اسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں۔} ارشاد فرمایا کہ  جس طرح حضرت ابراہیم  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دین میں بینائی عطا فرمائی ایسے ہی ہم انہیں آسمانوں اور زمین کے ملک دکھاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ اس سے آسمانوں اور زمین کی مخلوق مراد ہے۔ حضرت مجاہد اور حضرت سیدنا سعید بن جبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ اس سے آسمانوں اور زمین کی نشانیاں مراد ہیں اور وہ اِس طرح کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکوبیتُ المقدس کے صَخرہ پر کھڑا کیا گیا اور آپ کے لئے تمام آسمانوں کا مشاہدہ کھول دیا گیا یہاں تک کہ آپ نے عرش و کرسی اور آسمانوں کے تمام عجائب اور جنت میں اپنے مقام کو معائنہ فرمایا پھر آپ کے لئے زمین کا مشاہدہ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…بقرہ:۱۳۳۔
2…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب المغازی، حدیث فتح مکۃ، ۸/۵۳۰، الحدیث:۳۔