Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
140 - 558
وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِہَۃً ۚ اِنِّیۡۤ اَرٰىکَ وَقَوْمَکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۷۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کیا تم بتوں کو خدا بناتے ہو بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے فرمایا، کیا تم بتوں کو (اپنا) معبود بناتے ہو۔ بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں۔
 { وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ: اور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ سے فرمایا۔} یہ آیت مشرکینِ عرب پر حجت ہے جو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قابلِ تعظیم جانتے تھے اور اُن کی فضیلت کے معترف تھے انہیں دکھایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بت پرستی کو کتنا بڑا عیب اور گمراہی بتاتے ہیں اور اپنے چچا آزر سے فرما رہے ہیں کہ کیا تم بتوں کو اپنا معبود بناتے ہو؟ بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں۔ تو جب حضرت ابراہیم  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بتوں سے اس قدر نفرت کرتے ہیں تو اے اہلِ مکہ! اگر تم ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کومانتے ہو تو تم بھی بت پرستی چھوڑ دو۔ 
آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا چچا تھا یا باپ:
	یہاں آیت میں آزر کیلئے ’’اَبْ‘‘ کا لفظ ذکر کیا گیا ہے۔ اس کا ایک معنی ہے ’’باپ‘‘ اور دوسرا معنی ہے ’’چچا‘‘  اور یہاں اس سے مراد چچا ہے، جیسا کہ قاموس میں ہے : آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے چچا کا نام ہے۔ (1) 
	اور امام جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ’’مَسَالِکُ الْحُنَفَاء ‘‘ میں بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ نیزچچا کو باپ کہنا تمام ممالک میں معمول ہے بالخصوص عرب میں اور قرآن و حدیث میں بھی چچا کو باپ کہنے کی مثالیں موجود ہیں ، جیساکہ قرآنِ کریم میں ہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…القاموس المحیط، باب الرائ، فصل الہمزۃ، ۱/۴۹۱، تحت اللفظ: الازر۔