سکتا ہے ؟ اور کیااس کے بعد ہم الٹے پاؤں پھر جائیں جب کہ ہمیں اللہ نے ہدایت دی ہے اس شخص کی طرح (الٹے پاؤں پھر جائیں ) جسے شیطانوں نے زمین میں راستہ بھلا دیا ہو وہ حیران ہے، اُس کے ساتھی اسے راستے کی طرف بلا رہے ہیں کہ ادھر آؤ۔ تم فرماؤ کہ اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے اور ہمیں حکم ہے کہ ہم اس کے لیے گردن رکھ دیں جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔ اور یہ کہ نماز قائم رکھو اور اس سے ڈرو اور وہی ہے جس کی طرف تمہیں اٹھایا جائے گا۔ اور وہی ہے جس نے حق کے ساتھ آسمان و زمین بنائے اور جس دن فنا کی ہوئی ہر چیز کو وہ فرمائے گا: ’’ہو جا‘‘ تو وہ فوراً ہوجائے گی۔ اس کی بات سچی ہے جس دن صور میں پھونکا جائے گا اس دن اسی کی سلطنت ہے (وہ) ہر چھپے اور ظاہر کو جاننے والا ہے اور وہی حکمت والا، خبردار ہے۔
{ قُلْ: تم فرماؤ۔}اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے مصطفی کریم ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، جو اپنے باپ دادا کے دین کی دعوت دیتے ہیں اُن مشرکین سے فرماؤ کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے سوا اس کی عبادت کریں جونہ ہمیں نفع دے سکتا ہے اور نہ ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے اور اس میں کوئی قدرت نہیں اور کیااس کے بعد ہم الٹے پاؤں پھر جائیں جب کہ ہمیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہدایت دی ہے اور اسلام اور توحید کی نعمت عطا فرمائی ہے اور بت پرستی کے بدترین وبال سے بچایاہے۔
{ وَ نُرَدُّ عَلٰۤی اَعْقَابِنَا: اور کیا ہم الٹے پاؤں پھرجائیں۔}اس آیت میں حق اور باطل کی دعوت دینے والوں کی ایک تمثیل بیان فرمائی گئی کہ جس طرح مسافر اپنے رفیقوں کے ساتھ تھا، جنگل میں بھوتوں اور شیطانوں نے اس کو راستہ بہکا دیا اور کہا منزلِ مَقصُود کی یہی راہ ہے اور اس کے رفیق اس کو راہِ راست کی طرف بلانے لگے، وہ حیران رہ گیاکہ کدھر جائے ۔ اس کاانجام یہی ہوگا کہ اگر وہ بھوتوں کی راہ پر چل پڑا تو ہلاک ہوجائے گا اور رفیقوں کا کہا مانا تو سلامت رہے گا اور منزل پر پہنچ جائے گا ۔یہی حال اس شخص کا ہے جو طریقہ اسلام سے بہکا اور شیطان کی راہ چلا ،مسلمان اس کو راہِ راست کی طرف بلاتے ہیں اگر اُن کی بات مانے گا راہ پائے گا ورنہ ہلاک ہوجائے گا۔ (1)
{ اِنَّ ہُدَی اللہِ ہُوَ الْہُدٰی: اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، تم فرماؤ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ہدایت ہی ہدایت ہے۔جو طریقہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے واضح فرمایا اور جو دینِ اسلام اُن کے لئے مقرر کیا وہی ہدایت و نور ہے اور جو اِس کے سوا ہے وہ دینِ باطل ہے اور ہمیں حکم ہے کہ ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے گردن رکھ دیں اور اسی کی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور خاص اسی کی عبادت کریں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۷۱، ۲/۲۶-۲۷۔