Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
126 - 558
{ وَ یُرْسِلُ عَلَیۡکُمۡ حَفَظَۃً: اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔} ان سے مراد وہ فرشتے ہیں جو بنی آدم کی نیکی او ربدی لکھتے رہتے ہیں ،انہیں کراماً کاتبین کہتے ہیں۔ ہر آدمی کے ساتھ دو فرشتے ہیں ،ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف۔ دائیں طرف کا فرشتہ نیکیاں لکھتا ہے اور بائیں طرف کافرشتہ برائیاں لکھتا ہے۔
گناہ کرنے والے غور کریں :
	 بندوں کو چاہئے کہ غور کریں اور بدیوں اور گناہوں سے بچیں کیونکہ ہر ایک عمل لکھا جاتا ہے اور روزِ قیامت وہ نامۂ اعمال تمام مخلوق کے سامنے پڑھا جائے گا تو گناہ کتنی رسوائی کا سبب ہوں گے اللہ عَزَّوَجَلَّپناہ دے۔ اسی کے پیشِ نظر امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے زبان کی حفاظت کے متعلق فرمایا: حضرت عطا بن ا بی رباح رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : تم سے پہلے لوگ فضول کلام کو ناپسند کرتے تھے۔ وہ لوگ کتابُ اللہ، سنت ِ رسول، نیکی کی دعوت دینے، برائی سے منع کرنے اور اپنی ایسی حاجت جس کے سوا کوئی چارہ ہی نہ ہو کے علاوہ کلام کو فضول شمار کرتے تھے۔ کیا تم اس بات کا انکار کرتے ہو کہ تمہارے دائیں بائیں دو محافظ فرشتے کراماً کاتبین بیٹھے ہیں 
 ’’ مَا یَلْفِظُ مِنۡ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیۡہِ رَقِیۡبٌ عَتِیۡدٌ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔
	کیا تمہیں اس بات سے حیا نہیں آتی کہ تمہارا نامۂ اعمال جب کھولا جائے گا جو دن بھرصادر ہونے والی باتوں سے بھرا ہو گا، اور ان میں زیادہ تر وہ باتیں ہوں گی جن کا نہ تمہارے دین سے کوئی تعلق ہو گا نہ دنیا سے۔ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’میرے ساتھ کوئی شخص بات کرتا ہے ،اسے جواب دینا شدید پیاس کے وقت ٹھنڈے پانی سے زیادہ میری خواہش ہوتی ہے لیکن میں اس خوف سے اسے جواب نہیں دیتا کہ کہیں یہ فضول کلام نہ ہو جائے۔ (2)(3)
{ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا: ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرتے ہیں۔} اِن فرشتوں سے مراد یا تو تنہا حضرت ملکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَام ہیں ،اس صورت میں جمع کالفظ (رُسُل) تعظیم کے لئے ہے یا حضرت ملکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَام اور وہ فرشتے مراد ہیں جو ان کے مددگار ہیں۔ جب کسی کی موت کا وقت آتا ہے تو حضرت ملکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَاماللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…ق:۱۸۔
2…احیاء العلوم، کتاب آفات اللسان، بیان عظیم خطر اللسان وفضیلۃ الصمت، الآفۃ الثانیۃ فضول الکلام، ۳/ ۱۴۱۔
3…زبان کی حفاظت سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب’’جنت کی دو چابیاں‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ بہت مفید ہے۔