Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
125 - 558
ایک طرح کی موت تم پر وارِدکرتا ہے جس سے تمہارے حواس اور ان کے ظاہری افعال جیسے دیکھنا، سننا، بولنا، چلنا پھرنا اور پکڑنا وغیرہ سب مُعَطَّل ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد پھر بیداری کے وقت وہی رب عَزَّوَجَلَّ تمام اعضاء کو ان کے تصرفات عطا فرما دیتا ہے اور وہ دیکھنا سننا، بولنا اور چلنا پھرنا وغیرہ شروع کر دیتے ہیں تو وہ رب عَزَّوَجَلَّ مخلوق کو ان کی حقیقی موت کے بعد زندگانی کے تصرفات عطا کر نے پر بھی قادر ہے ۔
وَ ہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیۡکُمۡ حَفَظَۃً ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا وَ ہُمْ لَا یُفَرِّطُوۡنَ ﴿۶۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں کسی کو موت آتی ہے ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرتے ہیں اور وہ قصور نہیں کرتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور وہی اپنے بندوں پرغالب ہے اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں کسی کو موت آتی ہے توہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔
{ وَ ہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ:اور وہی اپنے بندوں پرغالب ہے۔} یعنی اللہ تعالیٰبندوں کے تمام امور میں ہر طرح سے تصرف کرنے کی قدرت رکھتا ہے، وہی عطا کرتا اور وہی اپنی عطا روکتا ہے، وہی ملاتا اور وہی توڑتا ہے،وہی نفع و نقصان پہنچاتا ہے ،وہی عزت و ذلت دیتا ہے ،وہی زندگی اور موت دیتا ہے، اس کے فیصلے کو رد کرنے والا کوئی نہیں اور اس کے علاوہ اور کوئی جائے پناہ نہیں۔ (1)ایک اور مقام پراللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ وَ اِنۡ یَّمْسَسْکَ اللہُ بِضُرٍّ فَلَاکَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ۚ وَ اِنۡ یُّرِدْکَ بِخَیۡرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِہٖ ؕ یُصِیۡبُ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ ؕ وَہُوَ الْغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۰۷﴾‘‘ (2)
 ترجمۂکنزُالعِرفان:اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سواکوئی تکلیف کو دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے تو اس کے فضل کو کوئی رد کرنے والانہیں۔اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…صاوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۶۱، ۲/۵۸۸۔
2…یونس:۱۰۷۔