مددگاروں کو اس کی روح قبض کرنے کا حکم دیتے ہیں ، جب روح حلق تک پہنچتی ہے تو خود قبض فرماتے ہیں۔ (1)اور ان سب فرشتوں کی شان میں فرمایا کہ یہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے یعنی تعمیلِ حکم میں اُن سے کوتاہی واقع نہیں ہوتی اور ان کے عمل میں سستی اور تاخیر راہ نہیں پاتی بلکہ وہ اپنے فرائض ٹھیک وقت پر ادا کرتے ہیں۔
ثُمَّ رُدُّوۡۤا اِلَی اللہِ مَوْلٰىہُمُ الْحَقِّ ؕ اَلَا لَہُ الْحُکْمُ ۟ وَ ہُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیۡنَ ﴿۶۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: پھر پھیرے جاتے ہیں اپنے سچے مولیٰ اللہ کی طرف سنتا ہے اسی کا حکم ہے اور وہ سب سے جلد حساب کرنے والا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر انہیں اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا جو ان کا مالک ِ حقیقی ہے۔ سن لو، اسی کا حکم ہے اور وہ سب سے جلد حساب کرنے والا ہے۔
{ ثُمَّ رُدُّوۡۤا اِلَی اللہِ:پھر انہیں اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا۔} یعنی جب لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوں گے تو فرشتے انہیں حساب کی جگہ میں اس اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی جزاء کی طرف لوٹائیں گے جو ان کے تمام امور کا حقیقی مالک ہے۔ اے لوگو! سن لو، قیامت کے دن بندوں کے درمیان اسی کا فیصلہ نافذ ہے کسی اور کا کوئی فیصلہ کسی بھی طرح نافذ نہیں ہو سکتا اور وہ انتہائی قلیل مدت میں تمام مخلوق کا حساب کرنے والا ہے۔ (2)
حساب ہونے سے پہلے اپنا محاسبہ کر لیا جائے:
علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں ’’جب مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا اور اعمال کا حساب ہوناہے اور اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق سے ا س کے اعمال کا حساب لینا ہے تو عقلمند انسان پر لازم ہے کہ وہ حساب کے معاملے میں جرح ہونے سے پہلے ہی اپنے نفس کا محاسبہ کر لے کیونکہ انسان راہِ آخرت میں تاجر ہے، اس کی عمر اس کا مال و متاع ہے، اس کا نفع اپنی زندگی کو عبادات اور نیک اعمال میں صرف کرنا ہے اور ا س کا نقصان گناہوں اور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۶۱، ۲/۲۳۔
2…روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۶۲، ۳/۴۶۔