Brailvi Books

صراط الجنان جلد سوم
115 - 558
مَا عَلَیۡکَ مِنْ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے تم پر ان کے حساب سے کچھ نہیں اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں پھر انہیں تم دور کرو تو یہ کام انصاف سے بعید ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اوران لوگوں کو دور نہ کرو جو صبح و شام اپنے رب کو اس کی رضا چاہتے ہوئے پکارتے ہیں۔آپ پر ان کے حساب سے کچھ نہیں اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں۔ پھر آپ انہیں دور کریں تو یہ کام انصاف سے بعید ہے ۔
{ وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ: اور ان لوگوں کو دور نہ کرو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ کفار کی ایک جماعت نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں آئی، اُنہوں نے دیکھا کہ تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے اِردگرد غریب صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کی ایک جماعت حاضر ہے جو ادنیٰ درجہ کے لباس پہنے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ ہمیں ان لوگوں کے پاس بیٹھتے شرم آتی ہے، اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں اور آپ کی خدمت میں حاضر رہیں۔ حضورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اس بات کو منظور نہ فرمایا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (1) اور فرمایا گیا کہ اِن مخلص وغریب صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو اپنی بارگاہ سے دور نہ کرو جو صبح و شام اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو اس کی رضا چاہتے ہوئے پکارتے ہیں۔ ان غریب صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا رزق آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر نہیں کہ غربت کی وجہ سے انہیں دور کردیا جائے اور نہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ذمہ داری ان پر ہے۔ سب کا حساب اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ہے، وہی تمام خلق کو روزی دینے والا ہے اور اس کے سوا کسی کے ذمہ کسی کا حساب نہیں۔ 
	اس آیت کادوسرا معنیٰ یہ بیان کیا گیا ہے کہ کفار نے غریب صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم پر طعن مراد لیا تھا کہ یہ تو غربت کی وجہ سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے پاس بیٹھے ہوئے ہیں کہ یہاں کچھ روزی روٹی کا انتظام ہوجاتا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب مجالسۃ الفقرائ، ۴/۴۳۵، الحدیث: ۴۱۲۷، تفسیر بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۲، ۲/۸۱۔