ہے ، یہ مخلص نہیں ہیں۔ اس پر پہلے تو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے اِخلاص کا بیان فرمایا کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا چاہتے ہوئے دن رات اس کی عبادت کرتے ہیں پھر فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَآپ پر ان کے احوال کی تفتیش لازم نہیں کہ یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ساتھ مخلص ہیں یا نہیں ؟ (1)بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ان کو اپنے فیضِ صحبت سے نوازتے رہیں اور خلاصہ کلام یہ ہے کہ وہ ضعیف فقراء جن کا اوپر ذکر ہوا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے دربار میں قرب پانے کے مستحق ہیں انہیں دور نہ کرنا ہی بجا ہے۔
وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمۡ بِبَعْضٍ لِّیَقُوۡلُوۡۤا اَہٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡۢ بَیۡنِنَا ؕ اَلَیۡسَ اللہُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰکِرِیۡنَ ﴿۵۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور یونہی ہم نے ان میں ایک کودوسرے کے لئے فتنہ بنایا کہ مالدار کافر محتاج مسلمانوں کو دیکھ کر کہیں کیا یہ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ہم میں سے کیا اللہ خوب نہیں جانتا حق ماننے والوں کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور یونہی ہم نے ان میں بعض کی دوسروں کے ذریعے آزمائش کی کہ یہ کہیں : کیا یہ لوگ ہیں جن پرہمارے درمیان میں سے اللہ نے احسان کیا ؟کیا اللہ شکر گزاروں کو خوب نہیں جانتا؟
{ وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمۡ بِبَعْضٍ: اور یونہی ہم نے ان میں بعض کی دوسروں کے ذریعے آزمائش کی۔} پہلی آیت کے حوالے سے یہاں فرمایا گیا کہ غریبوں کے ذریعے امیروں کی آزمائش ہوتی رہتی ہے اور گزشتہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے صحابہ کے ساتھ بھی یہ ہوتا تھا کہ مالدار کافر غریب مسلمانوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے اور ان کا مذاق اُڑاتے اور ہمیشہ سے کفار کا یہ دستور رہا ہے کہ مسلمانوں کے فقر کو دیکھ کر اسلام کی حقانیت کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اسلام سچا اور کفر جھوٹا ہے تو مسلمان فقیر اور کفار مالدار کیوں ہیں ؟
غریبوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے نصیحت:
اس سے معلوم ہوا کہ امیری و غریبی کو حق کا پیمانہ قرار نہیں دیا جاسکتا،نیز سابقہ آیت کے شانِ نزول اور اِس
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر کبیر، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۲، ۴/۵۴۲ ملتقطاً۔