کی طرف یوں اٹھایا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کاکوئی حمایتی اور سفارشی نہ ہو گا۔آپ لوگوں کو اس امید پر ڈرائیں کہ یہ کفر اور گناہوں کو چھوڑ کر پرہیز گار بن جائیں۔ (1)
قیامت کے دن شفاعت:
یاد رہے کہ قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقابلے میں کوئی کسی کا حمایتی اور سفارشی نہ ہوگا ہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اجازت سے حمایتی و سفارشی ہوں گے جیسے انبیاء، اولیاء، شہداء، صلحاء، علماء اور حجاجِ کرام وغیرہا ،یہ سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اِذن اور ا س کی اجازت سے لوگوں کی حمایت اور سفارش کریں گے۔ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاءِ عظام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْکی شفاعت تو واضح ہے۔ تبرکاً ،دیگر حضرات کی شفاعت سے متعلق 4احادیث پیش کی جاتی ہیں۔
(1)… حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن تین جماعتیں شفاعت کریں گی۔ انبیاء پھر علماء پھر شہید لوگ۔ (2)
(2)…حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ شہید کے ستر اہلِ خانہ کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ (3)
(3)… حضرت جابر بن عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: عالم اور عابد دونوں کو(قیامت کے دن) دوبارہ زندہ کیاجائے گا ، اس کے بعد عابد سے کہا جائے گا کہ تو جنت میں داخل ہو جا اور عالم کو حکم ہو گا کہ تم ابھی ٹھہرو اور لوگوں کی شفاعت کرو۔ (4)
(4)… حضرت ابو موسیٰ اَشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مرفوعاً روایت ہے کہ’’ حاجی کی شفاعت اس کے خاندان کے چار سو افراد کے حق میں قبول کی جائے گی۔ (5)
وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجْہَہٗ ؕ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر کبیر، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۱، ۴/۵۳۹، روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۱، ۳/۳۴-۳۵، ملتقطاً۔
2…ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر الشفاعۃ، ۴/۵۲۶، الحدیث: ۴۳۱۳۔
3…ابوداؤد، کتاب الجہاد، باب فی الشہید یشفع، ۳/۲۲، الحدیث: ۲۵۲۲۔
4…شعب الایمان، السابع عشر من شعب الایمان ۔۔۔ الخ، فصل فی فضل العلم وشرف مقدارہ، ۲/۲۶۸، الحدیث: ۱۷۱۷۔
5…مسند البزار، مسند ابی موسی رضی اللہ عنہ، ۸/۱۶۹، الحدیث: ۳۱۹۶۔