میرے پاس نہیں ( بلکہ یہ فرمایا کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں ) تاکہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے خزانے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے پاس ہیں مگر حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ لوگوں سے ان کی سمجھ کے قابل باتیں فرماتے ہیں (اس لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ان سے ایسا فرمایا) اور وہ خزانے ’’تمام اشیاء کی حقیقت و ماہیت کا علم‘‘ ہیں ، حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اسی کے ملنے کی دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ پھر فرمایا ’’میں نہیں جانتا یعنی تم سے نہیں کہتا کہ مجھے غیب کا علم ہے، ورنہ حضورِا قدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تو خود فرماتے ہیں ’’مجھے ماکان و مایکون کا علم ملا یعنی جو کچھ ہو گزرا اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب کاعلم مجھے عطا کیا گیا۔ (1)
اس آیت کے آخر میں فرمایا کہ کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہیں ؟اس سے مراد یہ ہے کہ کیا مؤمن و کافر اور عالم و جاہل برابر ہیں یعنی ہرگز برابر نہیں ہیں۔
وَ اَنۡذِرْ بِہِ الَّذِیۡنَ یَخَافُوۡنَ اَنۡ یُّحْشَرُوۡۤا اِلٰی رَبِّہِمْ لَیۡسَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ وَلِیٌّ وَّلَا شَفِیۡعٌ لَّعَلَّہُمْ یَتَّقُوۡنَ ﴿۵۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اس قرآن سے انہیں ڈراؤ جنہیں خوف ہو کہ اپنے رب کی طرف یوں اٹھائے جائیں کہ اللہ کے سوا نہ ان کا کوئی حمایتی ہو نہ کوئی سفارشی اس امید پر کہ وہ پرہیزگار ہوجائیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس قرآن سے ان لوگوں کو ڈراؤ جواس بات سے ڈرتے ہیں کہ انہیں ان کے رب کی طرف یوں اٹھایا جائے گا کہ اللہ کے سوا نہ ان کا کوئی حمایتی ہو گا اور نہ کوئی سفارشی۔(انہیں اس) امید پر( ڈراؤ) کہ یہ پرہیزگار ہوجائیں۔
{ وَ اَنۡذِرْ بِہِ الَّذِیۡنَ یَخَافُوۡنَ:اور اس قرآن سے انہیں ڈراؤ جنہیں خوف ہو۔}اس سے پہلے یہ بیان ہو اکہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کامنصب بشارت دینا اور ڈر سنانا ہے اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکوحکم دیا کہ وہ بھی لوگوں کوڈر سنائیں ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ اس قرآن میں ذکر کئے گئے عذابات سے ان لوگوں کو ڈرائیں جو اس بات سے ڈرتے ہیں کہ انہیں ان کے رب
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر نیشاپوری، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۰، ۳/۸۳۔