(3)… مسلمان کو سب سے زیادہ فکر دین کی ہوتی ہے جبکہ منافق کو صرف اپنی جان کی فکر ہوتی ہے۔
(4)…مومن ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن رکھتا ہے جبکہ منافق معمولی سی تکلیف پر اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانیوں کا شکار ہوجاتا ہے۔
(5)…اللہ تعالیٰ کے وعدے پر کامل یقین رکھنا کامل ایمان کی نشانی ہے ۔
(6)…موت سے کوئی شخص فرار نہیں ہوسکتا، جس کی موت جہاں لکھی ہے وہاں آکر ہی رہے گی لہٰذا جہاد سے فرار مسلمان کی شان لائق نہیں۔
(7)…غزوۂ اُحد میں منافقین کے علاوہ جتنے مسلمان تھے وہ سب اللہ تعالیٰ کے پیارے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر خصوصی کرم نوازی فرمائی۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَلَّوْا مِنۡکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّہُمُ الشَّیۡطٰنُ بِبَعْضِ مَا کَسَبُوۡاۚ وَلَقَدْ عَفَا اللہُ عَنْہُمْؕ اِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌ﴿۱۵۵﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: بیشک وہ جو تم میں سے پھرگئے جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں انہیں شیطان ہی نے لغزش دی ان کے بعض اعمال کے باعث اور بیشک اللہ نے انہیں معاف فرمادیا بیشک اللہ بخشنے والا حلم والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک تم میں سے وہ لوگ جو اس دن بھاگ گئے جس دن دونوں فوجوں کا مقابلہ ہوا ،انہیں شیطان ہی نے ان کے بعض اعمال کی وجہ سے لغزش میں مبتلا کیا اور بیشک اللہ نے انہیں معاف فرمادیاہے، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا حلم والا ہے۔
{ اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَلَّوْا مِنۡکُمْ: بیشک تم میں سے وہ لوگ جو اس دن بھاگ گئے۔}جنگ ِاحد میں چودہ اصحاب رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے سوا جن میں حضرت ابو بکر صدیق ،حضرت عمر فاروق ،حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم بھی شامل ہیں جو حضور سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے ساتھ رہے باقی تمام اصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے قدم اکھڑ گئے تھے اور خصوصاً وہ