Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
75 - 476
 آگئے۔ حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ روزِ اُحد نیند ہم پر چھا گئی ہم میدان میں تھے تلوار میرے ہاتھ سے چھوٹ جاتی تھی پھر اُٹھاتا تھا پھر چھوٹ جاتی تھی۔     (بخاری، کتاب التفسیر، باب امنۃ نعاساً، ۳/۱۹۵، الحدیث: ۴۵۶۲)
	دوسری طرف منافقوں کاگروہ تھا جنہیں صرف اپنی جان کی فکر پڑی ہوئی تھی ،وہ اللہ تعالیٰ پر معاذ اللہبدگمانیاں کررہے تھے کہ اللہ  تعالیٰ حضور سید ُالمرسلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی مدد نہ فرمائے گا یا یہ کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ شہید ہوگئے لہٰذا اب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا دین باقی نہ رہے گا۔ (صاوی، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۵۴، ۱/۳۲۵)
	 یہ صرف جاہلیت کے گمان تھے۔ پھر منافقین کے بارے میں فرمایا کہ یہ اپنے دلوں میں اپنا کفر ، اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر بھروسہ نہ ہونا اور جہاد میں مسلمانوں کے ساتھ آنے پر افسوس کرنا چھپائے ہوئے ہیں ، ان کے دلوں میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے وعدے معاذاللہ سچے نہیں ہیں لیکن یہ باتیں مسلمانوں کے سامنے ظاہر نہیں کرسکتے۔ یہ کہتے ہیں کہ اگرہماری بھی کچھ چلتی ہوتی اور جنگ اُحدکے بارے میں ہمارا مشورہ مان لیا جاتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی بدگمانیوں اور بدکلامیوں کے رد میں فرمایا کہ’’ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ،تم فرمادو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے جب بھی جن کا مارا جانا تقدیر میں لکھا جاچکا تھا وہ اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل کر آجاتے کیونکہ جیسے موت کا وقت مقرر ہے ایسے ہی موت کی جگہ بھی مُتَعَیَّن ہے۔ جس نے جہاں ،جیسے مرنا ہے، وہ وہاں ویسے ہی مرے گا۔ گھروں میں بیٹھ رہنا کچھ کام نہیں آتااورتقدیر کے سامنے ساری تدبیریں اور حیلے بے کار ہوجاتے ہیں۔ اس آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ احد میں پیش آنے والے واقعات کی حکمت بیان فرمائی کہ غزوہ اُحد میں جو کچھ ہواوہ اس لئے ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارے دلوں کے اخلاص اورمنافقت آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں پوشیدہ ہے اسے سب کے سامنے کھول کر رکھ دے۔ 
آیت’’ ثُمَّ اَنۡزَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا ‘‘ سے حاصل ہونے والا درس:
	 اس آیت میں مذکور واقعے میں بہت سے درس ہیں۔
(1)…آزمائش کے وقت ہی کھرے کھوٹے کی پہچان ہوتی ہے۔
(2)… مسلمان صابر جبکہ منافق بے صبرا ہوتا ہے۔