Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
77 - 476
 حضرات جنہیں نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے پہاڑی مورچے پر مقرر کیا تھا اور ہر حال میں وہیں ڈٹے رہنے کا حکم دیا تھا لیکن وہ ثابت قدم نہ رہ سکے بلکہ جب پہلے حملے ہی میں کفار کے قدم اکھڑ گئے اورمسلمان غالب آئے، تب ان دَرّے والوں نے کہا کہ چلو ہم بھی مالِ غنیمت جمع کریں۔ حضرت عبداللہ بن جبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے منع فرمایا مگر یہ لوگ سمجھے کہ فتح ہو چکی، اب ٹھہرنے کی کیا ضرورت ہے۔ دَرَّہ چھوڑ دیا، بھاگتے ہوئے کفار نے درہ کو خالی دیکھا تو پلٹ کر درہ کی راہ سے مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کر دیا جس سے جنگ کا نقشہ بدل گیا، یہاں اسی کا ذکر ہے۔ ان حضرات سے یہ لغزش ضرور سرزد ہوئی لیکن چونکہ ان کے ایمان کامل تھے اور وہ مخلص مومن اور حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے سچے غلام تھے اور آگے پیچھے کئی مواقع پر یہی حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ پر اپنی جانیں قربان کرنے والے تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان کی معافی کا اعلان فرمادیا تاکہ اگر ان کی لغزش سامنے آئے تورب کریم عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں ان کی عظمت بھی سامنے رہے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَقَالُوۡا لِاِخْوٰنِہِمْ اِذَا ضَرَبُوۡا فِی الۡاَرْضِ اَوْ کَانُوۡا غُزًّی لَّوْ کَانُوۡا عِنۡدَنَا مَا مَاتُوۡا وَمَا قُتِلُوۡا ۚ لِیَجْعَلَ اللہُ ذٰلِکَ حَسْرَۃً فِیۡ قُلُوۡبِہِمْ ؕ وَاللہُ یُحْیٖ وَیُمِیۡتُ ؕ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۱۵۶﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو ان کافروں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اپنے بھائیوں کی نسبت کہا جب وہ سفر یا جہاد کو گئے کہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے اس لئے کہ اللہ ان کے دلوں میں اس کا افسوس رکھے اور اللہ جِلاتا (زندہ رکھتا) اور مارتا ہے اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! ان کافروں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا جب وہ