Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
74 - 476
عَلَیۡہِمُ الْقَتْلُ اِلٰی مَضَاجِعِہِمْۚ وَلِیَبْتَلِیَ اللہُ مَا فِیۡ صُدُوۡرِکُمْ وَلِیُمَحِّصَ مَا فِیۡ قُلُوۡبِکُمْؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴿۱۵۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: پھر غم کے بعد تم پر چین کی نیند اتاری کہ تمہاری ایک جماعت کو گھیرے تھی اور ایک گروہ کو اپنی جان کی پڑی تھی اللہ پر بے جا گمان کرتے تھے جاہلیت کے سے گمان کہتے اس کام میں کچھ ہمارا بھی اختیار ہے؟ تم فرمادو کہ اختیار تو سارا اللہ کا ہے اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے کہتے ہیں ہمارا کچھ بس ہوتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے تم فرمادو کہ اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے جب بھی جن کا مارا جانا لکھا جاچکا تھا اپنی قتل گاہوں تک نکل کرآتے اور اس لئے کہ اللہ تمہارے سینوں کی بات آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلو ں میں ہے اسے کھول دے اور اللہ دلوں کی بات جانتا ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: پھراس نے تم پر غم کے بعد چین کی نیند اتاری جو تم میں سے ایک گروہ پر چھاگئی اور ایک گروہ وہ تھا جسے اپنی جان کی فکر پڑی ہوئی تھی وہ اللہ پر ناحق گمان کرتے تھے ، جاہلیت کے سے گمان ۔وہ کہہ رہے تھے کہ کیااس معاملے میں کچھ ہمارا بھی اختیار ہے ؟تم فرمادو کہ اختیار تو سارا اللہہی کا ہے۔یہ اپنے دلوں میں وہ باتیں چھپاکر رکھتے ہیں جوآپ پر ظاہر نہیں کرتے۔ کہتے ہیں ، اگرہمیں بھی اس معاملے میں کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے۔اے حبیب! تم فرمادو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے جب بھی جن کا مارا جانا لکھا جاچکا تھا وہ اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل کر آجاتے اور اس لئے ہوا کہ اللہ تمہارے دلوں کی بات آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلو ں میں پوشیدہ ہے اسے کھول کر رکھ دے اور اللہدلوں کی بات جانتا ہے۔
{ ثُمَّ اَنۡزَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا:پھراس نے تم پر غم کے بعد چین کی نیند اتاری ۔} غزوہ ٔاحد میں  تکالیف اٹھانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلص مومنوں پر خاص کرم نوازی ہوئی، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی پریشانی دور کرنے کے لئے ان پر غم کے بعد چین کی نیند اتاری جو صرف مخلص صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم پر ہی اتری، اس کی برکت سے مسلمانوں کے دلوں میں جو رعب اور ہیبت طاری تھا وہ ختم ہوگیا اور مسلمان سکون و اطمینان کی کَیْفِیَّت میں