Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
67 - 476
پہلے کسی نبی نے جہاد نہ کیا تھا۔ البتہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد بہت سے پیغمبروں کی شریعت میں جہاد تھا جیسے حضرت موسیٰ، حضرت داؤد، حضرت یوشععَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وغیرہا اور ربانی لوگوں سے مراد علماء، مشائخ اور متقی لوگ ہیں جو اللہ عَزَّوَجَلَّکو راضی کرنے کی کوشش میں لگے رہیں۔ 		     (بیضاوی، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۴۶، ۲/۱۰۰)
آیت’’ وَکَاَیِّنۡ مِّنۡ نَّبِىٍّ ‘‘ سے حاصل ہونے والا درس:
	اس آیتِ مبارکہ میں بہت سے درس ہیں ،ان میں سے 2یہ ہیں :
(1)… افضل کو افضل نیکیاں کرنی چاہئیں ، وہ تمام ماتحتوں سے عمل میں بڑھ کر ہونا چاہیے، لہٰذا سیدوں ، عالموں اور پیروں کو دوسروں سے زیادہ نیک ہونا چاہیے۔
(2)… دوسروں کے اعمال دکھا کر، سنا کرکسی کو جوش دِلانا سنت ِالٰہیہ ہے بلکہ تاریخی حالات کا جاننا اس نیت سے بہت بہتر ہے۔ اسی لئے مختلف محفلوں ، عرسوں ، بزرگانِ دین کے ایام میں ان کی عبادت و ریاضت، زہد وتقویٰ کے واقعات بیان کئے جاتے ہیں تاکہ عمل کا جذبہ پیدا ہو۔ 
وَمَا کَانَ قَوْلَہُمْ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیۡۤ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانۡصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیۡنَ﴿۱۴۷﴾ 
ترجمۂکنزالایمان:  وہ کچھ بھی نہ کہتے تھے سوا اس دعا کے کہ اے ہمارے رب بخش دے ہمارے گناہ اور جو زیادتیاں ہم نے اپنے کام میں کیں اور ہمارے قدم جما دے اور ہمیں ان کافر لوگوں پر مدد دے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ اپنی اس دعا کے سوا کچھ بھی نہ کہتے تھے کہ اے ہمارے رب ! ہمارے گناہوں کو اور ہمارے معاملے میں جو ہم سے زیادتیاں ہوئیں انہیں بخش دے اور ہمیں ثابت قدمی عطا فرما اور کافر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔
{ وَمَا کَانَ قَوْلَہُمْ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا رَبَّنَا: اور وہ اپنی اس دعا کے سوا کچھ بھی نہ کہتے تھے کہ اے ہمارے رب !۔}  یعنی رسولوں کے ساتھی تکالیف پر بے صبری نہ دکھاتے اوردین کی حمایت اورجنگ کے مقامات میں اُن کی زبان پر کوئی ایسا کلمہ