Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
68 - 476
نہ آتا جس میں گھبراہٹ ،پریشانی اور تَزَلْزُل (ڈگمگانے) کا شائبہ بھی ہوتا بلکہ وہ ثابت قدم رہتے اور مغفرت، ثابت قدمی اورفتح و نصرت کی دُعا کرتے۔ انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے صحابہ کی جو دعا بیان کی گئی ہے اس میں انہوں نے اپنے آپ کو گنہگارکہا ہے، یہ عاجزی، اِنکساری اور بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے آداب میں سے ہے۔ لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ وہ خود کو گنہگار کہہ رہے ہیں اور ان کا پروردگار عَزَّوَجَلَّ انہیں رَبّانی یعنی اللہ والے فرما رہا ہے۔ اور حقیقت میں لطف کی بات یہی ہے بندہ خود کو گنہگار کہے اور اس کا رب عَزَّوَجَلَّ اسے ابرار (نیکو کار) فرمائے۔ کسی بزرگ کا فرمان ہے کہ’’ ساری دنیا مجھے مردود کہے اور ربّ کریم عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں ، میں مقبول قرار پاؤں یہ اس سے بہتر ہے کہ ساری دنیا مجھے مقبول کہے اور رب کریم عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں ، میں مردود قرار پاؤں۔ آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرنے سے پہلے توبہ و استغفار کرناآدابِ دعا میں سے ہے۔
فَاٰتٰىہُمُ اللہُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الۡاٰخِرَۃِؕ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیۡنَ﴿۱۴۸﴾٪
 
ترجمۂکنزالایمان: تو اللہ نے انہیں دنیا کا انعام دیا اور آخرت کے ثواب کی خوبی اور نیکی والے اللہ کو پیارے ہیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: تو اللہ نے انہیں دنیا کا انعام (بھی) عطا فرمایا اور آخرت کا اچھا ثواب بھی اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ 
{ فَاٰتٰىہُمُ اللہُ ثَوَابَ الدُّنْیَا: تو اللہ نے انہیں دنیا کا انعام (بھی) عطا فرمایا۔}انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مَعِیَّت میں دینِ خدا عَزَّوَجَلَّ کیلئے جدوجہد کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کی حسنِ نیت اور حسنِ عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں دونوں جہان کی کامیابیاں عطا فرمائیں ، دنیا میں انہیں فتح و نصرت سے نواز اور دشمنوں پر غلبہ عطا فرمایا جبکہ آخرت میں ان کیلئے مغفرت، جنت اوررضائے الٰہی کا انعام رکھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ آخرت کا ثواب دنیا کے انعام سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ آخرت کے ثواب پر لفظ’’ حُسْنَ‘‘ زیادہ فرمایا ہے اوریہ بھی معلوم ہوا کہ دین کی خدمت کرنے والے کو دنیا بھی ملتی ہے۔