Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
66 - 476
ہوسکتا ہے کہ اسے یہ چیزیں مل جائیں لیکن آخرت کا ثواب ہرگز نہیں ملے گا جبکہ اگر وہ آخرت کا طلبگارہو تو آخرت کا ثواب تو اسے ملے گا ، اس کے ساتھ وہ عزت و شہرت اور مالِ غنیمت سے بھی محروم نہیں رہے گا۔ 
وَکَاَیِّنۡ مِّنۡ نَّبِىٍّ قٰتَلَۙ مَعَہٗ رِبِّیُّوۡنَ کَثِیۡرٌۚ فَمَا وَہَنُوۡا لِمَاۤ اَصَابَہُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَمَا ضَعُفُوۡا وَمَا اسْتَکَانُوۡاؕ وَاللہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیۡنَ﴿۱۴۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا ان کے ساتھ بہت خدا والے تھے تو نہ سست پڑے ان مصیبتوں سے جو اللہ کی راہ میں انہیں پہنچیں اور نہ کمزور ہوئے اور نہ دبے اور صبر والے اللہ کو محبوب ہیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا، ان کے ساتھ بہت سے اللہ والے تھے تو انہوں نے اللہ کی راہ میں پہنچنے والی تکلیفوں کی وجہ سے نہ تو ہمت ہاری اور نہ کمزور ی دکھائی اور نہ (دوسروں سے) دبے اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ 
{ وَکَاَیِّنۡ مِّنۡ نَّبِىٍّ قٰتَلَ:اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا۔} مسلمانوں کا حوصلہ بڑھایا جارہا ہے اور انہیں بتایا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بہت سے انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جہاد کیا، ان کے ساتھ ان کے صحابہ بھی ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے جہاد کی تکالیف کے باوجود ہمت نہ ہاری اور کمزوری نہ دکھائی اور کافروں کے سامنے پَسپائی کا مظاہرہ نہ کیا بلکہ راہِ خدا عَزَّوَجَلَّمیں ڈٹے رہے اور مردانہ وار تمام تکالیف و مصائب کو برداشت کرتے رہے اور صبر و استقامت کے پیکر بنے رہے تو اے مسلمانو! تم تو وہ ہو کہ تمہارے نبی اُن تمام نبیوں کے سردار ہیں اور تم اُن تمام امتوں سے افضل ہو تو چاہیے کہ تمہاری بہادری اور استقامت ان سے زیادہ ہو، تمہاری ہمت اور حوصلہ ان سے بڑھ کر ہو، تم میں صبر کا مادہ ان سے زیادہ ہو، لہٰذا تم بھی اپنے اندر وہی اوصاف پیدا کرو۔اس آیت کے شروع میں بیان ہوا کہ بہت سے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جہاد کیا اور ان کے ساتھ رَبّانی لوگ تھے۔ دونوں چیزوں کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ جہاد حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے شرو ع ہوا، سب سے پہلے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جہاد فرمایا، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے