Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
445 - 476
تعالیٰ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنادیتا مگر اس نے ایسا نہیں کیاتا کہ جو شریعتیں اس نے تمہیں دی ہیں ان میں تمہیں آزمائے اور امتحان میں ڈالے تاکہ ظاہر ہوجائے کہ ہر زمانہ کے مناسب جو احکام دیئے کیا تم اُن پر اس یقین و اعتقاد کے ساتھ عمل کرتے ہو کہ ان کا اختلاف اللہ تعالیٰ کی مَشِیَّت(مرضی) سے ہے اور اس میں بہت سی حکمتیں اور دنیاوی اور اُخروی فوائد و منافع ہیں اور یا تم حق کو چھوڑ کر نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہو۔ (ابو سعود،  المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴۸، ۲/۵۱)
{ فَاسْتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ: تو نیکیوں کی طرف دوسروں سے آگے بڑھ جاؤ۔} قرآنِ پاک کا حکیمانہ طریقہ یہ ہے کہ جن معاملات سے انسان کی دنیا و آخرت کا کوئی قابلِ قبول فائدہ متعلق نہیں ہے ان میں بحث و مقابلہ کرنے کی بجائے انہیں رضائے الٰہی اور بھلائی کے کاموں میں مقابلہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ چنانچہ یہاں بھی اسی انداز کی ایک جھلک ہے کہ شریعتوں کے اختلاف کی وجوہات میں فلسفیانہ بحثیں کرنے اور بال کی کھال اتارنے کی بجائے نیکیوں کی طرف آنے کی دعوت دی۔ اس میں ہماری بہت سی چیزوں کی اصلاح ہے۔ آج کل حالت یہ ہے کہ ہر محاذ اور میدان میں فضولیات پر بحث و مباحثہ اور پانی سے مکھن نکالنے کی کوششیں جاری رہتی ہیں اور کرنے کے کاموں کی طرف توجہ کم ہی ہوتی ہے۔ خواہ مخواہ کی باریکیاں نکالنے کو مہارت اور قابلیت شمار کیا جاتا ہے اگرچہ عملی طور پر ایسے آدمی کی حالت نہایت گری ہوئی ہو۔ بحث وہاں کی جائے جہاں اس سے کوئی فائدہ نظر آئے، صرف وقت گزاری، لوگوں کو متوجہ رکھنے، طلب ِ شہرت اور قابلیت دکھانے کیلئے اپنا اور لوگوں کا وقت ضائع کرنااور عملی دنیا میں تنکا تک نہ توڑنا عقل، دین اور اسلام سب کے منافی ہے۔ اس نصیحت کی روشنی میں بہت سے لوگوں کو اپنے طرزِ عمل پر نظر کرنے کی حاجت ہے۔ سمجھنے کیلئے سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کا ایک فرمان ہی کافی ہے’’مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہ مَالَایَعْنِیْہِ‘‘  آدمی کے اسلام کے حسن سے ہے کہ وہ فضول چیزوں کو چھوڑ دے۔ 	     (ترمذی، کتاب الزہد، ۱۱-باب، ۴/۱۴۲، الحدیث: ۲۳۲۴)
وَ اَنِ احْکُمۡ بَیۡنَہُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَہۡوَآءَہُمْ وَاحْذَرْہُمْ اَنۡ یَّفْتِنُوۡکَ عَنۡۢ بَعْضِ مَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ اِلَیۡکَ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیۡدُ اللہُ اَنۡ یُّصِیۡبَہُمۡ بِبَعْضِ ذُنُوۡبِہِمْ ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوۡنَ ﴿۴۹﴾