کر ہم نے تم سب کے لیے ایک ایک شریعت اور راستہ رکھا اور اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت کردیتا مگر منظور یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں دیا اس میں تمہیں آزمائے تو بھلائیوں کی طرف سبقت چاہو، تم سب کا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے تو وہ تمہیں بتادے گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اے حبیب !ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری جو پہلی کتابوں کی تصدیق فرمانے والی اور ان پر نگہبان ہے تو ان (اہلِ کتاب) میں اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ کرو اور اے سننے والے ! اپنے پاس آیا ہوا حق چھوڑ کران کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ ہم نے تم سب کے لیے ایک ایک شریعت اور راستہ بنایا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا مگر (اس نے ایسا نہیں کیا) تا کہ جو (شریعتیں ) اس نے تمہیں دی ہیں ان میں تمہیں آزمائے تو نیکیوں کی طرف دوسروں سے آگے بڑھ جاؤ، تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے تو وہ تمہیں بتادے گا وہ بات جس میں تم جھگڑتے تھے۔
{ وَ اَنۡزَلْنَاۤ اِلَیۡکَ الْکِتٰبَ: اور ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل فرمائی۔} تورات و انجیل کا تذکرہ کرنے کے بعد اب قرآنِ عظیم کا تذکرہ ہورہا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری جوسابقہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر نازل ہونے والی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان پر نگہبان ہے تو جب اہلِ کتاب اپنے مُقَدَّمات میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی طرف رجوع کریں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ قرآنِ پاک کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ فرمادیں۔
{ لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنۡکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا:ہم نے تم سب کے لیے ایک ایک شریعت اور راستہ بنایا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے تم سب کے لیے ایک ایک شریعت اور راستہ بنایا ہے یعنی فروعی اعمال ہر ایک کے خاص اور جدا جدا ہیں جیسے نمازوں ، روزوں کی تعداد اور اس طرح کے احکام جدا جدا ہیں لیکن اصل دین سب کا ایک ہے یعنی توحید و رسالت، عقیدہ آخرت، یونہی بنیادی اَخلاقیات سب کی مشترک ہیں۔ حضرت علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کہ ایمان حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانہ سے یہی ہے کہ ’’ لَآاِلٰہَ اِلَّااللہُ‘‘ کی شہادت اور جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے آیا اس کا اقرار کرنا جبکہ شریعت ہر اُمت کی خاص ہے۔ (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴۸، ۱/۵۰۱)
{ وَلَوْ شَآءَ اللہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وّٰحِدَۃً: اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنادیتا۔} ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ