Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
446 - 476
ترجمۂکنزالایمان: اور یہ کہ اے مسلمان اللہ کے اتارے پر حکم کر اور ان کی خواہشوں پر نہ چل اور ان سے بچتا رہ کہ کہیں تجھے لغزش نہ دے دیں کسی حکم میں جو تیری طرف اترا پھر اگر وہ منہ پھیریں تو جان لو کہ اللہ  ان کے بعض گناہوں کی سزا ان کو پہنچایا چاہتا ہے اور بیشک بہت آدمی بے حکم ہیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ( اے مسلمان! ) یہ کہ ان (لوگوں ) کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل فرمایا ہے اور ان کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو اور ان سے بچتے رہو کہ کہیں وہ تمہیں اس کے بعض احکام سے ہٹانہ دیں جو اللہ نے تمہاری طرف نازل کیا ہے۔ پھر اگر وہ منہ پھیریں تو جان لو کہ اللہ انہیں ان کے بعض گناہوں کی سزا پہنچانا چاہتا ہے اور بیشک بہت سے لوگ نافرمان ہیں۔ 
{ وَ اَنِ احْکُمۡ بَیۡنَہُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ: اور یہ کہ اے مسلمان ان (لوگوں ) کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل فرمایا ہے۔} یہاں مسلمان فیصلہ کرنے والوں کو فرمایا کہ اہلِ کتاب کے درمیا ن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نازل فرمائے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ کرو اور اس بات سے بچتے رہو کہ یہ لوگ تمہیں کسی غلطی کے مُرْتَکِب نہ کروادیں اور اگر یہ اہلِ کتاب لوگ قرآن سے اِعراض کریں تو سمجھ جاؤ کہ اللہ  تعالیٰ انہیں ان کے گناہوں کی سزا دینا چاہتا ہے جو دنیا میں قتل و گرفتاری اور جلاوطنی کے ساتھ ہوگی ۔ جبکہ ویسے تمام گناہوں کی سزا آخرت میں دے گا۔
اَفَحُکْمَ الْجٰہِلِیَّۃِ یَبْغُوۡنَ ؕ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللہِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ ﴿٪۵۰﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: تو کیا جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور اللہ سے بہتر کس کا حکم یقین والوں کے لیے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیا یہ لوگ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور یقین والوں کے لیے اللہ سے بہتر کس کا حکم ہوسکتا ہے؟ 
{ اَفَحُکْمَ الْجٰہِلِیَّۃِ یَبْغُوۡنَ: تو کیا یہ لوگ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں۔} اس آیت کاشانِ نزول یہ ہے کہ بنی نَضِیْر اور بنی قریظہ یہودیوں کے دو قبیلے تھے، ان میں آپس میں قتل و غارتگری جاری رہتی تھی ۔ جب نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے تو یہ لوگ اپنا مقدمہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں لائے اور