Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
443 - 476
انجیل پر عمل کرنے سے متعلق ایک اعتراض کا جواب:
	اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قرآنِ مجید کے نزول کے بعد انجیل پر عمل کرنے کے حکم کی کیا تَوجِیہ ہو گی ؟ تواس کے چند جوابات ہیں :
(1)…انجیل میں تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی نبوت کے جو دلائل موجود ہیں اہلِ انجیل کو چاہئے کہ وہ ان دلائل کے مطابق ایمان لے آئیں۔
(2)…اہلِ انجیل ان احکام پر عمل کریں جن کوقرآن نے منسوخ نہیں کیا۔
(3)…انجیل کے احکام پر عمل کرنے سے مراد یہ ہے کہ انجیل میں تحریف نہ کریں جس طرح یہود یوں نے تورات میں تحریف کر دی تھی۔ 					       (تفسیر کبیر، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴۷، ۴/۳۷۱) 
	لیکن تحقیق یہی ہے کہ یہ حکم اس وقت دیا گیا تھا جب اللہ تعالیٰ نے انجیل کو نازل کیا تھا اور نزولِ قرآن کے بعد قرآنِ مجید کے علاوہ کسی آسمانی کتاب پر عمل جائز نہیں ہے،اور اسلام کے علاوہ کوئی اور دین مقبول نہیں ہے۔
وَ اَنۡزَلْنَاۤ اِلَیۡکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ مِنَ الْکِتٰبِ وَمُہَیۡمِنًا عَلَیۡہِ فَاحْکُمۡ بَیۡنَہُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَہۡوَآءَہُمْ عَمَّا جَآءَکَ مِنَ الْحَقِّ ؕ لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنۡکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا ؕ وَلَوْ شَآءَ اللہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وّٰحِدَۃً وَّ لٰکِنۡ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیۡ مَاۤ اٰتٰىکُمۡ فَاسْتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ ؕ اِلَی اللہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیۡعًا فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمْ فِیۡہِ تَخْتَلِفُوۡنَ ﴿ۙ۴۸﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی اور ان پر محافظ و گواہ تو ان میں فیصلہ کرو اللہ کے اتارے سے اور اے سننے والے ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اپنے پاس آیا ہوا حق چھوڑ