Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
442 - 476
{ وَقَفَّیۡنَا عَلٰۤی اٰثٰرِہِمۡ: اور ہم نے ان نبیوں کے پیچھے ان کے نقشِ قدم پر بھیجا ۔} توریت کے احکام بیان کرنے کے بعد انجیل کے احکام کا ذکر شروع ہوا اور بتایا گیا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام توریت کی تصدیق فرمانے والے تھے کہ تورات اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نازل کردہ کتاب ہے اور توریت کے منسوخ ہونے سے پہلے اس پر عمل واجب تھا، حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شریعت میں توریت کے بعض احکام منسوخ کردئیے گئے۔ اس کے بعد انجیل کی شان بیان فرمائی گئی کہ اس میں ہدایت اور نور تھا اور ہدایت اور نصیحت تھی ۔ پہلی جگہ ہدایت سے مراد ضلالت و جہالت سے بچانے کے لیے رہنمائی کرنا ہے اور دوسری جگہ ہدایت سے سیدُ الانبیاء، حبیب کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری کی بشارت مراد ہے جو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی نبوت کی طرف لوگوں کی رہنمائی کا سبب ہے۔ 
(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴۶، ۱/۵۰۰)
وَلْیَحْکُمْ اَہۡلُ الۡاِنۡجِیۡلِ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ فِیۡہِ ؕ وَمَنۡ لَّمْ یَحْکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوۡنَ ﴿۴۷﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور چاہئے کہ انجیل والے حکم کریں اس پر جو اللہ نے اس میں اتارا اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کریں تو وہی لوگ فاسق ہیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور انجیل والوں کو بھی اسی کے مطابق حکم کرنا چاہیے جو اللہ نے اس میں نازل فرمایا ہے اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا تووہی لوگ نافرمان ہیں۔
{ وَلْیَحْکُمْ اَہۡلُ الۡاِنۡجِیۡلِ: اور انجیل والوں کو حکم کرنا چاہے۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ انجیل والوں کو بھی اسی کے مطابق حکم کرنا چاہیے جو اللہ عَزَّوَجَلَّنے انجیل میں نازل فرمایا ہے یعنی سیدُ الانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ پر ایمان لانا چاہیے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی نبوت کی تصدیق کرنی چاہیے کیونکہ انجیل میں اسی کا حکم دیا گیا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جب ہم نے عیسائیوں کو انجیل عطا کی تواس وقت ان کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ ان احکام پر عمل کریں جو انجیل میں مذکور ہیں۔ 
(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴۷، ۱/۵۰۰، ملخصاً)