Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
441 - 476
عورت، آزاد ہو یا غلام، مسلم ہو یا ذمّی۔ حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ لوگ مرد کو عورت کے بدلے قتل نہ کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ 		(مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴۵، ص۲۸۷)
{فَمَنۡ تَصَدَّقَ بِہٖ: تو جو خود کوقصاص کے لئے پیش کردے۔} یعنی جو قاتل یا جرم کرنے والا اپنے جرم پر نادم ہو کر گناہ کے وبال سے بچنے کے لئے بخوشی اپنے اوپر حکم شرعی جاری کرائے تو قصاص اس کے جرم کا کفارہ ہوجائے گا اور آخرت میں اُس پر عذاب نہ ہوگا۔ 				  (جمل مع جلالین، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴۵، ۲/۲۲۸)
	 بعض مفسرین نے اس کے معنیٰ یہ بیان کئے ہیں کہ جو صاحبِ حق قصاص کومعاف کردے تو یہ معافی اس کے لئے کفارہ ہے۔ 						(مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴۵، ص۲۸۷)
	دونوں تفسیروں کے اعتبار سے ترجمہ مختلف ہوجائے گا۔ تفسیراحمدی میں ہے یہ تمام قصاص جب ہی واجب ہونگے جب کہ صاحبِ حق معاف نہ کرے اگروہ معاف کردے تو قصاص ساقط ہو جائے گا۔
(تفسیر احمدی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴۵، ص۳۵۹) 
وَقَفَّیۡنَا عَلٰۤی اٰثٰرِہِمۡ بِعِیۡسَی ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ مِنَ التَّوْرٰىۃِ ۪ وَاٰتَیۡنٰہُ الۡاِنۡجِیۡلَ فِیۡہِ ہُدًی وَّنُوۡرٌ ۙ وَّمُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ مِنَ التَّوْرٰىۃِ وَہُدًی وَّمَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیۡنَ ﴿ؕ۴۶﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم ان نبیوں کے پیچھے ان کے نشانِ قدم پر عیسیٰ بن مریم کو لائے تصدیق کرتا ہوا توریت کی جو اس سے پہلے تھی اور ہم نے اسے انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تصدیق فرماتی ہے توریت کی کہ اس سے پہلی تھی اور ہدایت اور نصیحت پرہیزگاروں کو۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے ان نبیوں کے پیچھے ان کے نقشِ قدم پر عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اُس تورات کی تصدیق کرتے ہوئے جو اس سے پہلے موجود تھی اور ہم نے اسے انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور تھا اور وہ (انجیل) اس سے پہلے موجود تورات کی تصدیق فرمانے والی تھی اور پرہیز گاروں کے لئے ہدایت اور نصیحت تھی۔