Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
440 - 476
ان کے ترک کا حکم ہمیں نہ دیا ہو اور نہ وہ منسوخ کئے گئے ہوں وہ ہم پر لازم ہوتے ہیں۔ 
(ابو سعود،  المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴۴، ۲/۴۵، ملخصاً)
وَکَتَبْنَا عَلَیۡہِمْ فِیۡہَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ ۙ وَالْعَیۡنَ بِالْعَیۡنِ وَ الۡاَنۡفَ بِالۡاَنۡفِ وَالۡاُذُنَ بِالۡاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ ۙ وَالْجُرُوۡحَ قِصَاصٌ ؕ فَمَنۡ تَصَدَّقَ بِہٖ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ ؕ وَمَنۡ لَّمْ یَحْکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۵﴾
 
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے توریت میں ان پر واجب کیا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بدلہ ہے پھر جو دل کی خوشی سے بدلہ کراوے تو وہ اس کا گناہ اتار دے گا اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے تورات میں ان پرلازم کردیاتھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت (کا قصاص لیا جائے گا) اور تمام زخموں کا قصاص ہوگا پھر جو دل کی خوشی سے (خود کو) قصاص کے لئے پیش کر دے تویہ اس کا کفارہ بن جائے گا اور جواس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔
{ وَکَتَبْنَا عَلَیۡہِمْ: اور ہم نے ان پر لازم کردیا تھا۔} اس آیت میں اگرچہ یہ بیان ہے کہ توریت میں یہودیوں پر قصاص کے یہ احکام تھے لیکن چونکہ ہمیں اُن کے ترک کرنے کا حکم نہیں دیا گیا اس لئے ہم پر بھی یہ احکام لازم رہیں گے کیونکہ سابقہ شریعتوں کے جو احکام اللہ تعالیٰ ا و رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے بیان سے ہم تک پہنچے اور مَنسوخ نہ ہوئے ہوں وہ ہم پر لازم ہوا کرتے ہیں جیسا کہ اُوپر کی آیت سے ثابت ہوا۔ آیت میں زخموں کے ، اعضاء کے اور جان کے قصاص کا حکم بیان فرمایا گیا ،اَعضاء اور زخموں کے قصاص میں کافی تفصیل ہے جس کیلئے فقہی کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے اور جان کے قصاص کا حکم یہ ہے کہ اگر کسی نے کسی کو قتل کیا تو اس کی جان مقتول کے بدلے میں لی جائے گی خواہ وہ مقتول مرد ہو یا