Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
433 - 476
 فرمایا ’’کیا اس معاملہ میں تم اس کی بات مانو گے؟ سب نے اقرار کیا۔ تب   سرکارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ابنِ صوریا سے فرمایا ’’ میں تجھے اُس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم دیتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ،جس نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر توریت نازل فرمائی اور تم لوگوں کو مصر سے نکالا اور تمہارے لئے دریامیں راہیں بنائیں اور تمہیں نجات دی، فرعونیوں کو غرق کیا اور تمہارے لئے بادل کو سائبان بنایا ،’’ منّ و سلوٰی ‘‘ نازل فرمایا اور اپنی کتاب نازل فرمائی جس میں حلال و حرام کا بیان ہے، کیا تمہاری کتاب میں شادی شدہ مرد و عورت کے لیے سنگسار کرنے کا حکم ہے؟ ابنِ صوریا نے عرض کی: بے شک یہ حکم توریت میں ہے، اسی کی قسم جس کا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے مجھ سے ذکر کیا۔ اگر مجھے عذاب نازل ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اقرار نہ کرتا اور جھوٹ بول دیتا ،مگر یہ فرمائیے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی کتاب میں اس کا کیا حکم ہے؟ سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جب چار عادل اور معتبر گواہوں کی گواہی سے زنا صراحت کے ساتھ ثابت ہوجائے تو سنگسار کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ ابنِ صوریا نے عرض کی: خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم، بالکل ایسا ہی توریت میں ہے۔ پھر حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ابنِ صوریا سے دریافت فرمایا کہ: حکمِ الٰہی میں تبدیلی کس طرح واقع ہوئی؟ اس نے عرض کیا کہ’’ ہمارا دستور یہ تھا کہ ہم کسی امیر کو پکڑتے تو چھوڑ دیتے اور غریب آدمی پر حد قائم کرتے ،اس طرزِ عمل سے امراء میں زنا کی بہت کثرت ہوگئی یہاں تک کہ ایک مرتبہ بادشاہ کے چچازاد بھائی نے زنا کیا تو ہم نے اس کو سنگسار نہ کیا، پھر ایک دوسرے شخص نے اپنی قوم کی عورت سے زنا کیا تو بادشاہ نے اس کو سنگسار کرنا چاہا، اس کی قوم اٹھ کھڑی ہوئی اور انہوں نے کہا جب تک بادشاہ کے بھائی کو سنگسار نہ کیا جائے اس وقت تک اس کو ہر گز سنگسار نہ کیا جائے گا۔ تب ہم نے جمع ہو کر غریب اورامیر سب کے لیے بجائے سنگسار کرنے کے یہ سزا نکالی کہ چالیس کوڑے مارے جائیں اور منہ کالا کرکے گدھے پر الٹا بٹھا کر شہر میں گشت کرایا جائے ۔ یہ سن کر یہودی بہت بگڑے اور ابنِ صوریا سے کہنے لگے’’ تو نے انہیں یعنی نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو بڑی جلدی خبر دیدی اور ہم نے جتنی تیری تعریف کی تھی تو اس کا مستحق نہیں۔ ابنِ صوریا نے کہا کہ’’ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے مجھے توریت کی قسم دلائی، اگر مجھے عذاب کے نازل ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو خبر نہ دیتا ۔ اس کے بعد رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے حکم سے ان دونوں زنا کاروں کو سنگسار کیا گیا اور یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔ 
(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴۱، ۱/۴۹۴-۴۹۵)