سَمّٰعُوۡنَ لِلْکَذِبِ اَکّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ ؕ فَاِنۡ جَآءُوۡکَ فَاحْکُمۡ بَیۡنَہُمۡ اَوْ اَعْرِضْ عَنْہُمْ ۚ وَ اِنۡ تُعْرِضْ عَنْہُمْ فَلَنۡ یَّضُرُّوۡکَ شَیْـًٔا ؕ وَ اِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمۡ بَیۡنَہُمْ بِالْقِسْطِ ؕ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیۡنَ ﴿۴۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: بڑے جھوٹ سننے والے بڑے حرام خور تو اگر تمہارے حضور حاضر ہوں تو ان میں فیصلہ فرماؤ یا ان سے منہ پھیرلو اور اگر تم ان سے منہ پھیرلو گے تو وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑیں گے اور اگر ان میں فیصلہ فرماؤ تو انصاف سے فیصلہ کرو بیشک انصاف والے اللہ کو پسند ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بہت جھوٹ سننے والے ،بڑے حرام خورہیں تو اگریہ تمہارے حضور حاضر ہوں تو ان میں فیصلہ فرماؤ یا ان سے منہ پھیرلو (دونوں کا آپ کو اختیار ہے) اور اگر آپ ان سے منہ پھیرلو گے تو وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اور اگر آپ ان میں فیصلہ فرمائیں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیں۔ بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
{ سَمّٰعُوۡنَ لِلْکَذِبِ:بہت جھوٹ سننے والے۔} سابقہ آیت میں جھوٹ سننے والوں سے مراد یہودی عوام تھی جو پادریوں اور سرداروں کے جھوٹ سن کر اس پر عمل کرتے تھے اور اِس آیت میں جھوٹ سننے والوں سے مراد یہودی حکمران اور پادری ہیں جو رشوتیں لے کر حرام کو حلال کرتے اور شریعت کے احکام کو بدل دیتے تھے۔
رشوت کا شرعی حکم اور ا س کی وعیدیں :
رشوت کا لینا دینا دونوں حرام ہیں اور لینے دینے والے دونوں جہنمی ہیں ، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’رشوت لینا مطلقًا حرام ہے ،جو پرایا حق دبانے کے لئے دیا جائے (وہ) رشوت ہے یونہی جو اپنا کام بنانے کے لئے حاکم کو دیا جائے رشوت ہے لیکن اپنے اوپر سے دفعِ ظلم (یعنی ظلم دور کرنے) کے لئے جو کچھ دیاجائے (وہ) دینے والے کے حق میں رشوت نہیں ،یہ دے سکتا ہے، لینے والے کے حق میں وہ بھی رشوت ہے اور اسے لینا حرام۔
(فتاوی رضویہ، ۲۳/۵۹۷)