Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
432 - 476
اُن کے کفر ظاہر کرنے اور کفار کے ساتھ دوستیاں کرلینے سے آپ رنجیدہ نہ ہوں۔پھر منافقین کی منافقت کا بیان فرمایا کہ صرف زبان سے کلمہ پڑھتے ہیں اور دل سے ایمان نہیں لاتے۔ 
{ وَمِنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا ۚۛ سَمّٰعُوۡنَ لِلْکَذِبِ:اور کچھ یہودی بہت جھوٹ سنتے ہیں۔} یہاں سے یہودیوں کا کردار بیان کیا گیا کہ وہ اپنے سرداروں کا جھوٹ خوب سنتے ہیں اور ان کے اِفتراؤں کو قبول کرتے ہیں اور اس کے ساتھ دوسرے لوگوں یعنی خیبر کے یہودیوں کی باتوں کو بھی خوب مانتے ہیں جن کے حالات آیت میں آگے بیان ہورہے ہیں۔
{ یُحَرِّفُوۡنَ الْکَلِمَ مِنۡۢ بَعْدِ مَوَاضِعِہٖ: یہ اللہ کے کلام کو اس کے مقامات کے بعد بدل دیتے ہیں۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ خیبر کے معزز شمار کئے جانے والے یہودیوں میں سے ایک شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت نے زنا کیا۔ اس کی سزا توریت میں سنگسار کرنا تھی، یہ انہیں گوارا نہ تھا اس لئے انہوں نے چاہا کہ اس مقدمے کا فیصلہ سرکارِدو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے کرائیں ، چنانچہ اُن دونوں مجرموں کو ایک جماعت کے ساتھ مدینہ طیبہ بھیجا اور ساتھ ہی کہہ دیا کہ اگر حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ حد یعنی کوڑے مارنے کا حکم دیں تو مان لینا اور سنگسار کرنے کا حکم دیں تو نہ ماننا۔ وہ لوگ بنی قریظہ اور بنی نضیرکے یہودیوں کے پاس آئے اور سمجھے کہ یہ حضورِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے ہم وطن ہیں اور اُن کے ساتھ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی صلح بھی ہے لہٰذا اُن کی سفارش سے کام بن جائے گا، چنانچہ یہود ی سرداروں میں سے کعب بن اشرف ، کعب بن اسد ،سعید بن عمرو، مالک بن صیف اور کنانہ بن ابی الحقیق وغیرہا انہیں لے کر تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسئلہ دریافت کیا۔ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا :’’کیا میرا فیصلہ مانو گے؟ ‘‘انہوں نے اقرار کیا۔  رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے رجم یعنی سنگسار کرنے کا حکم دیدیا۔ یہودیوں نے اس حکم کو ماننے سے انکار کیا تو حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ تم میں ایک نوجوان اِبنِ صوریا ہے، کیاتم اس کو جانتے ہو؟ کہنے لگے، ہاں۔ سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ وہ کیسا آدمی ہے؟ یہودی کہنے لگے کہ آج روئے زمین پریہودیوں میں اس کے پائے کا کوئی عالم نہیں ، توریت کایکتا ماہر ہے۔ ارشاد فرمایا ’’ اس کو بلاؤ۔ چنانچہ اسے بلایا گیا۔ جب وہ حاضر ہوا تو حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا، کیا تو ابن صوریا ہے؟ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ ارشاد فرمایا، کیا یہودیوں میں سب سے بڑا عالم تو ہی ہے؟ اس نے عر ض کی: لوگ تو ایسا ہی کہتے ہیں۔ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے یہودیوں سے