تُؤْتَوْہُ فَاحْذَرُوۡا ؕ وَمَنۡ یُّرِدِ اللہُ فِتْنَتَہٗ فَلَنۡ تَمْلِکَ لَہٗ مِنَ اللہِ شَیْـًٔا ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَمْ یُرِدِ اللہُ اَنۡ یُّطَہِّرَ قُلُوۡبَہُمْ ؕ لَہُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ ۚۖ وَّلَہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۴۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے رسول تمہیں غمگین نہ کریں وہ جو کفر پر دوڑتے ہیں کچھ وہ جواپنے منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور ان کے دل مسلمان نہیں اور کچھ یہودی جھوٹ خوب سنتے ہیں اور لوگوں کی خوب سنتے ہیں جو تمہارے پاس حاضر نہ ہوئے اللہ کی باتوں کو ان کے ٹھکانوں کے بعد بدل دیتے ہیں کہتے ہیں یہ حکم تمہیں ملے تو مانو اور یہ نہ ملے تو بچو اور جسے اللہ گمراہ کرنا چاہے تو ہرگز تو اللہ سے اس کا کچھ بنا نہ سکے گا وہ ہیں کہ اللہ نے ان کا دل پاک کرنا نہ چاہا انہیں دنیا میں رسوائی ہے، اور انہیں آخرت میں بڑا عذاب۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے رسول! جو کفر میں دوڑے جاتے ہیں تمہیں غمگین نہ کریں (یہ وہ ہیں ) جو اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دل مسلمان نہیں اور کچھ یہودی بہت جھوٹ سنتے ہیں ، اُن دوسرے لوگوں کی (بھی) خوب سنتے ہیں جو آپ کی بارگاہ میں نہیں آئے۔ یہ اللہ کے کلام کو اس کے مقامات کے بعد بدل دیتے ہیں۔ یہ (آپس میں ) کہتے ہیں : اگر تمہیں یہ (تحریف والا) حکم ملے تو اسے لے لینا اور اگر تمہیں یہ نہ ملے تو بچنا اور جسے اللہگمراہ کرنا چاہے تو ( اے مخاطب!) تو ہرگز اسے اللہ سے بچانے کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو پاک کرنے کا اللہ نے ارادہ نہیں فرمایا۔ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔
{ لَا یَحْزُنۡکَ الَّذِیۡنَ یُسٰرِعُوۡنَ فِی الْکُفْرِ:جو کفر میں دوڑے جاتے ہیں تمہیں غمگین نہ کریں۔} یہاں سے منافقین کی حرکتوں کا بیان ہے ۔سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو ’’ یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ‘‘ کے مبارک خطاب سے عزت عطا فرمائی اور حضورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی تسکینِ قلب کا سامان مہیا فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، میں آپ کا ناصر و معین (یعنی مددگار) ہوں۔ منافقین کے کفر میں جلدی کرنے یعنی