Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
430 - 476
{ فَمَنۡ تَابَ: تو جو توبہ کرلے۔} توبہ نہایت نفیس شے ہے ۔ کتنا ہی بڑا گناہ ہو اگر اس سے توبہ کرلی جائے تو اللہ تعالیٰ اپنا حق معاف فرما دیتا ہے اور تو بہ کرنے والے کو عذابِ آخرت سے نجات دے دیتا ہے لیکن یہ یاد رہے کہ جس گناہ میں کسی بندے کا حق بھی شامل ہووہاں توبہ کیلئے ضروری ہے کہ اس بندے کے حق کی ادائیگی بھی ہوجائے۔ 
اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرْضِ ؕ یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ وَیَغْفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۴۰﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی سزا دیتا ہے جسے چاہے اور بخشتا ہے جسے چاہے اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تجھے معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور اللہ ہر شے پر قادرہے۔ 
{ یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ: جسے چاہے سزا دیتا ہے۔} اس آیت سے معلوم ہوا کہ عذاب کرنا اور رحمت فرمانا اللہ تعالیٰ کی مَشِیَّت پر ہے ،وہ مالک ہے جو چاہے کرے کسی کو اعتراض کرنے کی مجال نہیں۔اس سے قَدرِیَہ( یعنی تقدیر کے منکر) اور معتزلہ فرقے کا رد ہوگیا جونیک پر رحمت اور گناہگار پر عذاب کرنا اللہ تعالیٰ پر واجب کہتے ہیں کیونکہ واجب ہونا مشیت کے منافی ہے۔ 
(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴۰، ۱/۴۹۴)
یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ لَا یَحْزُنۡکَ الَّذِیۡنَ یُسٰرِعُوۡنَ فِی الْکُفْرِ مِنَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاَفْوٰہِہِمْ وَلَمْ تُؤْمِنۡ قُلُوۡبُہُمْ ۚۛ وَمِنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا ۚۛ سَمّٰعُوۡنَ لِلْکَذِبِ سَمّٰعُوۡنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیۡنَ ۙ لَمْ یَاۡتُوۡکَ ؕ یُحَرِّفُوۡنَ الْکَلِمَ مِنۡۢ بَعْدِ مَوَاضِعِہٖ ۚ یَقُوۡلُوۡنَ اِنْ اُوۡتِیۡتُمْ ہٰذَا فَخُذُوۡہُ وَ اِنۡ لَّمْ