Brailvi Books

صراط الجنان جلد دوم
429 - 476
کی) تو بے شک اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے اُتار دیا پھر اگر اس نے تو بہ کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی تو بہ قبول فرما لے گا۔ 
(نسائی، کتاب قطع السارق، تعظیم السرقۃ، ص۷۸۳، الحدیث: ۴۸۸۲) 
چوری کی تعریف:
	سَرِقَہْ یعنی چوری کا لغوی معنی ہے خفیہ طریقے سے کسی اور کی چیز اٹھا لینا۔    (ہدایہ، کتاب السرقۃ، ۱/۳۶۲)
	جبکہ شرعی تعریف یہ ہے کہ عاقل بالغ شخص کا کسی ایسی محفوظ جگہ سے کہ جس کی حفاظت کا انتظام کیا گیا ہو دس درہم یا اتنی مالیت (یا اس سے زیادہ) کی کوئی ایسی چیز جو جلدی خراب ہونے والی نہ ہو چھپ کر کسی شبہ و تاویل کے بغیر اٹھا لینا۔ 
(فتح القدیر، کتاب السرقۃ، ۵/۱۲۰)
 چوری سے متعلق2شرعی مسائل:
(1)…چوری کے ثبوت کے دو طریقے ہیں (1) چور خود اقرار کر لے اگرچہ ایک بار ہی ہو۔ (2) دو مرد گواہی دیں ، اگر ایک مرد اور دو عورتوں نے گواہی دی تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
(2)…قاضی گواہوں سے چند باتوں کا سوال کرے ،کس طرح چوری کی، اور کہاں کی، اور کتنے کی کی، اور کس کی چیز چرائی؟ جب گواہ ان امور کا جواب دیں اور ہاتھ کاٹنے کی تمام شرائط پائی جائیں توہاتھ کاٹنے کا حکم ہے۔
	 تنبیہ: حدود و تعزیر کے مسائل میں عوامُ النّاس کو قانون ہاتھ میں لینے کی شرعاً اجازت نہیں۔ چوری کے مسائل کی تفصیلی معلومات کے لئے بہار شریعت حصہ 9کا مطالعہ کیجئے۔
فَمَنۡ تَابَ مِنۡۢ بَعْدِ ظُلْمِہٖ وَاَصْلَحَ فَاِنَّ اللہَ یَتُوۡبُ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۹﴾ 
ترجمۂکنزالایمان: تو جو اپنے ظلم کے بعد توبہ کرے اور سنور جائے تو اللہ اپنی مہر سے اس پر رجوع فرمائے گا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: تو جو اپنے ظلم کے بعد توبہ کرلے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہاپنی مہربانی سے اس پر رجوع فرمائے گا۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔